پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری سرگرمیوں کا آغاز تیزی کے رجحان سے ہوا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس KSE100 نے ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران شاندار تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
"silver price recovered above 27 dollars as us bonds yields plunged 13 points" کے لیے 950 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری سرگرمیوں کا آغاز تیزی کے رجحان سے ہوا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس KSE100 نے ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران شاندار تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں بے روزگاری انشورنس کے لیے نئی درخواستیں جمع کرانے والے شہریوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، جس نے براہ راست امریکی ڈالر انڈیکس اور سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں کو متاثر کیا ہے۔
بدھ کے روز آسٹریلوی ڈالر میں 0.29 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔ جس کے بعد یہ جوڑا 0.6963 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں حالیہ سیشنز کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ سونے کی قیمت جو کہ کچھ ہی روز قبل بلند ترین سطح پر تھی، اب تیزی سے واپس آتے ہوئے دو ماہ کی کم ترین سطح یعنی $4,104 کے قریب پہنچ چکی ہے۔
برطانوی پاؤنڈ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہے اور GBPUSD کا جوڑا 1.3250 کی سطح سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے۔ حالیہ تجارتی سیشنز میں امریکی ڈالر (US Dollar) کے خریداروں نے مارکیٹ پر مکمل غلبہ حاصل رکھا ہوا ہے
امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین (Japanese Yen) نے اس وقت قدرے سنبھلنے کی کوشش کی جب بینک آف جاپان (Bank of Japan) کی جانب سے شرح سود (Interest Rate) میں اضافے کی توقعات مدہم پڑ گئیں۔ USDJPY ایشیائی سیشن کے آغاز میں 158.35 کے قریب مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اگست کے مہینے میں یورو زون ریٹیل سیلز (Eurozone Retail Sales) کی رفتار میں متوقع سست روی دیکھی گئی، جس کے براہ راست اثرات فنانشل مارکیٹس اور خاص طور پر یورو (Euro) کی قدر پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ستمبر کے مہینے میں US ISM Services PMI توقعات سے کم ہو کر 54.9 پر آ گیا ہے، جو کہ پچھلے مہینے (اگست) میں 55.4 تھا۔
برطانوی پاؤنڈ (British Pound) کے لیے حالیہ کاروباری سیشنز کافی دباؤ کا شکار رہے ہیں، جہاں GBPUSD نمایاں کمی کے ساتھ 1.3200 کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ امریکی ڈالر (US Dollar) کی مضبوطی اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے مالیاتی خدشات نے مارکیٹ کے منظر نامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
بٹ کوائن نے 0.52 فیصد اضافے کے ساتھ 85,012 ڈالر کی سطح حاصل کر لی ہے۔ موجودہ مارکیٹ سٹرکچر، 84,713 ڈالر کی کلیدی انٹرا ڈے سپورٹ اور آگے کے اہم محرکات کا جامع تجزیہ۔
ستمبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے نہ صرف وال اسٹریٹ (Wall Street) کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے کرنسی اور کموڈٹی ٹریڈرز کو بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں