Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"how the us non farm payroll report will effect the global markets" کے لیے 559 نتائج۔

پاسداران انقلاب کے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل  حملے
پاسداران انقلاب کے اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی اڈوں US Military Bases پر ایران کے میزائل حملوں کا دوسرا مرحلہ جاری ہے جبکہ دوسری طرف سینٹکام نے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے

Adeel khalid ·
امریکی ہنگامی تیل ذخیرہ 1982 کے بعد کم ترین سطح پر، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے رسد کے خدشات بڑھ گئے
امریکی ہنگامی تیل ذخیرہ 1982 کے بعد کم ترین سطح پر، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے رسد کے خدشات بڑھ گئے

امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔

محمد اظہر سلیم ·
سولانا بلاک چین میں بڑی ٹرانزیکشنز کا انقلاب اور کرپٹو انڈسٹری کا ردعمل۔
سولانا بلاک چین میں بڑی ٹرانزیکشنز کا انقلاب اور کرپٹو انڈسٹری کا ردعمل۔

سولانا نیٹ ورک نے اپنے ٹرانزیکشن سائز کو تین گنا سے زیادہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے Solana Transaction v1 upgrade کہا جاتا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد ڈویلپرز کو پیچیدہ ٹریڈز اور بڑے سمارٹ کانٹریکٹس چلانے کے لیے زیادہ جگہ ملے گی۔

Robina Adeel ·
امریکہ، ایران کشیدگی اور   جارحانہ  بیانات  کا تسلسل ۔
امریکہ، ایران کشیدگی اور جارحانہ بیانات کا تسلسل ۔

عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔

Adeel khalid ·
پاکستان کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ گیا: اگست کی ماہانہ بہتری کیوں گمراہ کن ہو سکتی ہے؟
پاکستان کا تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ گیا: اگست کی ماہانہ بہتری کیوں گمراہ کن ہو سکتی ہے؟

خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔

محمد اظہر سلیم ·
پاکستان میکرو ہفتہ وار آؤٹ لک: 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کے باوجود مہنگائی، تجارتی خسارہ اور تیل بڑا امتحان
پاکستان میکرو ہفتہ وار آؤٹ لک: 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کے باوجود مہنگائی، تجارتی خسارہ اور تیل بڑا امتحان

یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں