جاپان کی دنیا بھر میں معروف تجارتی اور سرمایہ کاری کمپنی، سمیتومو کارپوریشن (Sumitomo Corporation) کے ساتھ پاکستان کے مائننگ سیکٹر (mining sector) میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ہونے والا رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
"kazou oueda announced to continue soft monetary policy" کے لیے 952 نتائج۔
جاپان کی دنیا بھر میں معروف تجارتی اور سرمایہ کاری کمپنی، سمیتومو کارپوریشن (Sumitomo Corporation) کے ساتھ پاکستان کے مائننگ سیکٹر (mining sector) میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ہونے والا رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
USD/JPY ایشیائی سیشن میں گر کر 152.89 پر آ گیا، جو کہ 18 فروری 2026 کے بعد جاپانی ین کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ترین قدر ہے۔ جاپان میں جولائی کے دوران حقیقی اجرتوں میں سالانہ بنیاد پر 2.4 فیصد کا ٹھوس اضافہ ہوا، جس نے گھریلو قوتِ خرید کو تحفظ دے کر بینک آف جاپان (BoJ) کے لیے شرحِ سود بڑھانے کا راستہ ہموار کیا ہے۔ دوسری سہ ماہی کی حقیقی GDP growth سالانہ شرح پر ابتدائی 1.1 فیصد سے بڑھا کر 1.4 فیصد کر دی گئی۔ کاروباری سرمایہ کاری بدستور منفی رہی، تاہم اس میں کمی ابتدائی تخمینے سے کم تھی، جبکہ بیرونی طلب نے مجموعی نمو کو اہم سہارا دیا۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) پر دباؤ: ڈالر کا اشاریہ گر کر 98.83 کی دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے جوڑی پر نیچے کی جانب دو طرفہ دباؤ قائم ہوا۔ اگرچہ ین مضبوط ہے، تاہم 10 سالہ امریکی ٹریژری ییلڈ 4.79 فیصد پر برقرار رہنے اور خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والا شرحِ سود کا فرق فیڈ اور ڈالر کے لیے بدستور ایک دفاعی دیوار بنا ہوا ہے۔
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
جاپانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے دوران ملک میں Japan real wages میں سالانہ بنیادوں پر 2.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس نے آج 177,167 پر کھلنے کے بعد 0.97 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 173,636 پوائنٹس پر بندش دی، جو 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے ہے۔ یہ گراوٹ مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے بیئرش دباؤ اور پچھلی رینج باؤنڈ ریکوری کی تھیسس کی نفی کی نشاندہی کرتی ہے۔
GBP/USD اس وقت 1.3520 سے 1.3530 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور 1.3500 اہم Support بنی ہوئی ہے۔ مضبوط US Employment Data نے امریکی ڈالر کو سپورٹ دی ہے اور Federal Reserve کی Rate Hike Expectations میں اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب UK Services PMI میں بہتری نے British Pound کو سہارا دیا ہے۔ اگر 1.3500GBP/USD اور 1.3480 سے نیچے جاتا ہے تو 1.3425 اور 1.3357 اگلی Support Levels ہو سکتی ہیں۔ اگر 1.3550Pair اور 1.3600 سے اوپر Break کرتا ہے تو 1.3670 کی طرف مزید Recovery ممکن ہے۔ مارکیٹ کی اگلی سمت US Inflation Data سے متاثر ہو سکتی ہے۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جو 277.60 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ رجحان درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی طلب میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ پچھلی 276.50 کی سطح اب اہم سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ نئی مزاحمت کی سطحوں کو جانچ رہی ہے۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
Gold Price نے $4,400 کے اوپر recovery کی ہے، جبکہ US Dollar اور Treasury Yields میں کمی نے Gold کو support دیا۔ اب مارکیٹ کی توجہ US Nonfarm Payrolls data پر ہے۔ کمزور jobs data Gold کو مزید support دے سکتا ہے، جبکہ مضبوط data دوبارہ selling pressure بڑھا سکتا ہے۔ Technical analysis میں $4,400 اہم support ہے، جبکہ $4,450 اور $4,500 اہم resistance levels ہیں۔ $4,500 کے اوپر move کی صورت میں Gold $4,600 کی طرف بڑھ سکتا ہے، جبکہ $4,400 سے نیچے break ہونے پر $4,300 اور $4,200 اہم levels ہوں گے۔
USD/JPY پر Yen کی قدر میں اضافے کے باعث دباؤ برقرار ہے۔ BOJ کی ممکنہ Rate Hike توقعات Yen کو سپورٹ دے رہی ہیں۔ US data، Fed policy اور Treasury yields بھی Pair کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔ Technical Analysis میں 159.33، 158.57 اور 158.00 اہم Support جبکہ 160.18، 160.39 اور 160.88 اہم Resistance levels ہیں۔
WTI Oil کی قیمت مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث مضبوط ہے۔ $86.90 اہم resistance ہے، جس کے اوپر breakout کی صورت میں قیمت $87.69 اور $90 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب $84 اہم support ہے۔ اس کے نیچے break ہونے پر قیمت $82 اور $80 کی طرف جا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں Strait of Hormuz، US oil inventories اور geopolitical developments WTI کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں