بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
"world bank released special report about pakistans economy" کے لیے 585 نتائج۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
USD/PKR دستیاب مارکیٹ ڈیٹا میں 277.05 رہا؛ حتمی انٹربینک اختتامی نرخ کی الگ تصدیق ضروری ہے۔ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور روپے کی محدود بہتری ایک ساتھ ممکن ہیں، کیونکہ دونوں کے محرکات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ امریکی بانڈ ییلڈز فاریکس مارکیٹ کے لیے اہم ہیں، مگر ان میں ہر اضافہ لازماً ڈالر میں تیزی یا رسک آف ماحول کی تصدیق نہیں کرتا۔ یورو زون میں بلند مہنگائی کے ساتھ فرانس کے مالیاتی خطرات بھی EUR/USD پر اثر ڈال رہے ہیں۔ امریکی روزگار کی رپورٹ کے بعد ڈالر، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات میں تبدیلی اگلا اہم محرک ہوگی۔
یورو زون کی سالانہ مہنگائی اگست کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.8 فیصد ہوگئی؛ مارکیٹ توقع 3.6 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی (Core Inflation) 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہوئی۔ ECB کی ڈپازٹ شرح 2.50 فیصد ہے؛ تازہ اعداد مزید اضافے کی دلیل دیتے ہیں، لیکن اگلے فیصلے کا وقت طے نہیں کرتے۔ فرانس اور جرمنی کے 10 سالہ بانڈ ییلڈز کا فرق تقریباً 150 بیسس پوائنٹس تک پہنچنے سے یورو زون کے مالیاتی خطرات نمایاں ہوئے۔ امریکی روزگار کی رپورٹ، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات EUR/USD کی اگلی حرکت کے لیے اہم ہیں۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
USD/JPY تقریباً 158.03 پر ہے۔ 158.25–158.50 کے اوپر قیمت برقرار رہنا مزید تیزی کی پہلی اہم شرط ہے۔ 157.30–157.50 فوری سپورٹ ہے، جبکہ 156.80–157.00 کے نیچے بریک ڈاؤن حالیہ ریکوری کو کمزور کرسکتا ہے۔ بڑے پرائس ایکشن میں ستمبر کی گراوٹ کے بعد 153.50 کے قریب سے ریکوری ہوئی ہے، جبکہ قلیل مدتی پرائس ایکشن میں خریداروں نے Higher Highs and Higher Lows بنانے کی کوشش کی ہے۔ بینک آف جاپان (BoJ) نے ستمبر میں پالیسی ریٹ بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا تھا، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو Fed Funds Target Range کو بڑھا کر 3.75–4.00 فیصد کردیا۔ آج مارکیٹ کی توجہ امریکی Nonfarm Payrolls (NFP)، بے روزگاری کی شرح اور اجرتوں کے اعداد پر ہے، کیونکہ یہ امریکی شرح سود اور ڈالر کی سمت کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ ستمبر کے لیے مارکیٹ کی توقع تقریباً 90,000 نئی ملازمتوں اور 4.1 فیصد بے روزگاری کی شرح کی ہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
پاکستان کی معیشت میں افراط زر کے حوالے سے اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان میں افراط زر کی سالانہ شرح کم ہو کر 10.3 فیصد پر ریکارڈ کی گئی ہے۔
وال اسٹریٹ میں Mag-7 ٹیکنالوجی دیو کی پیش قدمی جاری ہے۔ اینویڈیا اور ایپل کے ریکارڈز کے باعث انڈیکس تیزی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے جبکہ مالیاتی سیکٹر پیچھے رہ گیا ہے۔
برطانوی پاؤنڈ اور امریکی ڈالر کے درمیان کرنسی جوڑی اس وقت یورپی ٹریڈنگ کے آغاز میں 1.3250 کے قریب کمزوری کا شکار ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور امریکی فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی میں بڑھتے ہوئے فرق اور مضبوط امریکی معیشت کی وجہ سے برطانوی پاؤنڈ پر دباؤ برقرار ہے۔
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں لیبر ڈیٹا کی ہمیشہ سے ایک فیصلہ کن حیثیت رہی ہے۔ آج Automatic Data Processing (ADP) نے ستمبر کے مہینے کے لیے امریکہ کی نجی معیشت (private sector) سے متعلق روزگار کی رپورٹ ADP Employment Report جاری کر دی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں