یورو اور امریکی ڈالر (EUR/USD) کی جوڑی 1.13849 کی سطح پر فروخت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈز میں 5.217% تک اضافے اور ڈالر انڈیکس (101.21) کی مضبوطی نے یورپی کرنسی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔
"business day closed on negative trend in us stocks due to cautius market mood" کے لیے 1171 نتائج۔
یورو اور امریکی ڈالر (EUR/USD) کی جوڑی 1.13849 کی سطح پر فروخت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈز میں 5.217% تک اضافے اور ڈالر انڈیکس (101.21) کی مضبوطی نے یورپی کرنسی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔
US 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.184% پر بڑھتے ہوئے اور 2 سالہ ییلڈ کی کمی نے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کے رجحان کو مزید مستحکم کیا۔
STOXX 600 ابتدائی یورپی تجارت میں 0.3 فیصد بڑھ کر 640.43 پوائنٹس پر پہنچا، لیکن شعبوں کی کارکردگی میں نمایاں فرق رہا۔ برطانیہ نے پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے نئے ایکویٹی قرض پروگرام کا اعلان کیا ہے؛ مزید تفصیلات آئندہ ماہ کے بجٹ میں آنی ہیں۔ برطانوی ہاؤسنگ کمپنیوں کا اشاریہ تقریباً 16 فیصد بڑھا، بڑی کمپنیوں کے حصص میں 6 سے 23 فیصد تیزی آئی اور FTSE 250 تقریباً 1 فیصد اوپر رہا۔ برینٹ خام تیل میں 3 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ توانائی کے حصص بڑھے، جبکہ مضبوط ڈالر اور دھاتوں کی کمزوری سے کان کنی کا شعبہ دباؤ میں رہا۔ تیزی کے تسلسل کے لیے خریداری کا دوسرے شعبوں تک پھیلنا اہم ہوگا؛ تیل، بانڈ منافع اور ECB و BoE حکام کے بیانات اگلے نمایاں عوامل ہیں۔
SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
بٹ کوائن تقریباً 82,914 ڈالر پر ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کی نچلی قیمت 82,778 ڈالر رہی، اس لیے پہلے زیرِ بحث 82,819 ڈالر کی حد اب برقرار نہیں رہی۔ 83,000 ڈالر کی واپسی ابتدائی بہتری ہوگی، لیکن خریداروں کو 84,000 ڈالر کے علاقے تک پیش قدمی اور اس کے بعد خریداری کا تسلسل بھی دکھانا ہوگا۔ 24 گھنٹوں کی بلند ترین قیمت تقریباً 85,089 ڈالر ہے۔ صرف 85,000 عبور کرنے کے بجائے اس پورے علاقے کے اوپر قیام بحالی کو زیادہ وزن دے گا۔ حالیہ نچلی قیمت کے قریب اچھال بذات خود آزمودہ سپورٹ یا کامیاب ری ٹیسٹ نہیں۔ دوبارہ کمی پر خریداروں کا ردعمل اور بالائی سطحوں کی بازیابی اہم ہوگی۔ 78,000 ڈالر کو اس محدود جائزے کا فوری ہدف یا مثبت منظرنامہ غلط ثابت ہونے کی سطح نہیں بنایا جاسکتا؛ اس کے لیے وسیع تر چارٹ کا الگ تجزیہ ضروری ہے۔
BoJ کی جولائی اجلاس کی روداد میں مہنگائی کے بڑھتے خطرات اور نسبتاً تیز شرح سود اضافے کی گنجائش سامنے آئی، مگر یہ آئندہ فیصلے کا حتمی وعدہ نہیں۔ USD/JPY پیر کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 157.7 رہا اور ین 0.3 فیصد کمزور ہوا؛ سخت گیر جاپانی اشاروں کے باوجود ڈالر کی مجموعی برتری برقرار رہی۔ ڈالر انڈیکس (DXY) تقریباً 101.15 اور Brent Crude دوبارہ 106 ڈالر سے اوپر رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے ڈالر کو سہارا دیا۔ ستمبر میں ڈالر انڈیکس کا اضافہ تقریباً 1.7 فیصد تھا۔ جاپانی دس سالہ بانڈ کی شرح منافع جمعہ کو دورانِ تجارت 3.115 فیصد تک پہنچی؛ تاہم ین کے لیے امریکی اور جاپانی شرح منافع کا باہمی فرق زیادہ اہم ہے۔ اس ہفتے امریکی PCE، روزگار کے اعداد اور BoJ کے ستمبر اجلاس کی آرا کا خلاصہ اہم ہوگا؛ جاپانی و امریکی حکام کے رابطے مشترکہ کرنسی مداخلت کی تصدیق نہیں۔ نئی عملی مداخلت کا دعویٰ الگ تصدیق چاہتا ہے۔
BTC کی تازہ دستیاب قیمت تقریباً 85,000 ڈالر ہے؛ سات دن کی بلند سطح 87,330 ڈالر کے قریب رہی، اس لیے حالیہ بحالی کے باوجود پچھلی چوٹی ابھی دوبارہ حاصل نہیں ہوئی۔ 21 سے 25 ستمبر کے دوران امریکی Bitcoin ETF میں تقریباً 2.386 ارب ڈالر کی خالص آمد ہوئی؛ یہ مثبت طلب ہے، مگر تمام سرمایہ صرف ادارہ جاتی خریداروں کا نہیں سمجھا جاسکتا۔ BTC فنڈز کی روزانہ خالص آمد پیر کے 999 ملین سے جمعہ کو 134.5 ملین ڈالر رہ گئی؛ پانچوں سیشن مثبت تھے، لیکن خریداری کی روزانہ رفتار مسلسل کم ہوئی۔ ETH تقریباً 2,714 ڈالر ہے اور ہفتے میں 2,804 ڈالر تک جاچکا ہے؛ 2,750 سے 2,820 کی مزاحمت کے اوپر قیام اہم ہے، جبکہ ہفتہ وار ETF آمد تقریباً 690 ملین ڈالر رہی۔ BTC کے لیے 83,800 سے 84,000 کی حمایت اور 85,000 سے 85,800 کی مزاحمت قابلِ توجہ ہیں؛ ETH/BTC تقریباً 0.032 ہونے سے وسیع آلٹ کوائن گردش خودبخود ثابت نہیں ہوتی۔
عالمی اسپاٹ گولڈ XAU/USD میں عموماً امریکی ڈالر فی ٹرائے اونس کے حساب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایک تولہ تقریباً 11.6638 گرام، یعنی 0.375 ٹرائے اونس ہوتا ہے۔ 24 قیراط سونے کی بنیادی حسابی قیمت کا فارمولا ہے: XAU/USD × USD/PKR × 0.375۔ صرافہ نرخ اور حسابی قیمت میں فرق کو بغیر تحقیق کے پورا ڈیلر منافع نہیں کہا جاسکتا۔ زیورات کی حتمی قیمت میں خالصیت، سونے کا خالص وزن، بنوائی اور دیگر واضح چارجز بھی اہم ہیں۔
چاندی کی قیمت آج کے سیشن میں امریکی ڈالر کی کمی اور صنعتی طلب کے دباؤ کے باعث مستحکم رہی۔ تاہم COMEX پر بڑھتی ہوئی بائیک پوزیشن اور گولڈ‑سِلور ریشیو کی اوور بائی‑سائڈ سطحیں آئندہ کے لیے خطرے کا اشارہ دیتی ہیں۔
یہ تعلیمی سبق پیشہ ورانہ ٹریڈنگ کے بنیادی اصولوں، مارکیٹ سیٹ اپ کی شناخت، اہم نیوز ایونٹس کو ٹریڈنگ پلان میں شامل کرنے، اور مؤثر رسک مینجمنٹ تکنیکوں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد ٹریڈرز کو مارکیٹ میں زیادہ باخبر اور منظم فیصلے کرنے میں مدد دینا ہے۔
EUR/USD 1.1350 کی اہم حمایتی سطح پر بائرز کے دوبارہ ابھرنے کے بعد 1.1380 کے قریب مستحکم ہو رہا ہے۔ DXY میں معمولی کمی نے یورو کو کچھ ریلیف فراہم کی ہے، لیکن 1.1450-1.1480 کی مضبوط مزاحمتی سطح کو توڑنے کے لیے ٹھوس بنیادی محرکات کی ضرورت ہوگی۔ مرکزی بینکوں کی پالیسی میں فرق اور اقتصادی اعداد و شمار آئندہ رجحان کا تعین کریں گے۔
EUR/USD 1.1380 کی سطح پر مستحکم ہو رہا ہے، جو 1.1350 کے اہم سپورٹ لیول سے بائرز کے دوبارہ ابھرنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، 1.1450-1.1480 کی مزاحمتی سطح کو توڑنے کے لیے ٹھوس بنیادی محرکات کی ضرورت ہوگی۔ امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ڈالر کو سپورٹ فراہم کر رہا ہے، جبکہ DXY میں معمولی گراوٹ یورو کو کچھ ریلیف دے رہی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں