آج، 19 اگست 2026 کو، عالمی کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن اور ایتھیریم میں معمولی مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
"audusd rises above 0 6500 as australian cpi raised 1 0 percent in first quarter" کے لیے 345 نتائج۔
آج، 19 اگست 2026 کو، عالمی کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن اور ایتھیریم میں معمولی مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 176,846 پوائنٹس پر بند ہوا، جس میں 0.44% کی معمولی گراوٹ دیکھی گئی۔ سرمایہ کار آئندہ مارکیٹ رجحانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
Strait Of Hormuz کے دوبارہ کھلنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے Global Energy Markets میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ نے مارکیٹ میں Supply Risk Premium کو بڑھا دیا ہے۔
مہنگائی، تیل کی قیمتوں اور فیڈ پالیسی کی توقعات کے باعث امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ ہوا۔ جانیں اس کا ڈالر، سونے اور فاریکس مارکیٹ پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
آج 18 اگست 2026 کو کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن نے معمولی اضافہ دکھایا جبکہ ایتھیریم مستحکم رہا۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT کی قدر 277.70 روپے رہی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 180,502 پوائنٹس پر بند ہوا، معمولی تبدیلی کے ساتھ۔ سرمایہ کار آئندہ حکومتی پالیسیوں اور معاشی اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں۔
امریکی ڈالر کی کمزوری اور ECB کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات سے EUR/USD کو سپورٹ مل رہی ہے۔ 1.1600 اہم مزاحمتی سطح ہے۔
Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں