ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔