مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو اس وقت شدید دھکا لگا جب Strait of Hormuz کے معاملے پر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ہونیوالی میٹنگ ملتوی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
"iran crypto toll strait of hormuz oil tanker fees" کے لیے 521 نتائج۔
مشرق وسطیٰ میں امن کی امیدوں کو اس وقت شدید دھکا لگا جب Strait of Hormuz کے معاملے پر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان ہونیوالی میٹنگ ملتوی ہونے کی تصدیق کی گئی۔
مشرق وسطی کی اہم ترین ایسٹ ویسٹ Saudi Oil Pipeline کو عارضی طور پر بند کرنے اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سٹریٹجک جزیرہ پیرم پر قبضے نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستانی شیئر بازار نے ابتدائی گھنٹوں میں شدید دباؤ اور فروخت کے رجحان کا سامنا کیا، لیکن دن کے دوسرے حصے میں جغرافیائی کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے ایسا پلٹا کھایا کہ انڈیکس تمام نقصانات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دن کی بلند ترین سطح کے قریب بند ہوا۔
یمنی حوثیوں Houthis Rebels کی جانب سےآبنائے باب المندب کے قریب واقع انتہائی اسٹریٹجک جزیرے 'پرم' پر کنٹرول حاصل کرنے اور ساحلی قصبے دھوباب پر قبضے کی خبروں نے عالمی سطح پر سپلائی چین کے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یمنی ساحل پر ہونے والی فوجی پیش رفت اور بحیرہ احمر (Red Sea) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی فنانشل مارکیٹس اور کماڈٹی ٹریڈرز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ Red Sea oil supply disruption کا خطرہ اب محض ایک نظریاتی بحث نہیں رہا بل
سعودی عرب کی خام تیل کی پیداوار گزشتہ 36 سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ خطے میں جاری تنازعات، اہم سمندری گزرگاہوں کی بندش اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے سعودی عرب کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنی سپلائی میں نمایاں کمی کرے۔
Brent Crude Oil آج یورپی سیشنز کے دوران 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے چھ ہفتے کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔
FAO کا عالمی غذائی قیمت اشاریہ اگست میں 1.9 فیصد بڑھ کر 133.3 پوائنٹس ہوگیا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ تمام پانچ بڑی غذائی اقسام کی قیمتیں بڑھیں، جبکہ چینی کا اشاریہ ایک ماہ میں 11.9 فیصد بڑھا۔ عالمی اناج قیمتیں 2.2 فیصد بڑھیں اور FAO نے 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ بھی کم کر دیا ہے۔ موسمی خطرات، بحیرہ اسود میں رسدی رکاوٹیں اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث زرعی خام مال اور کھاد کی ترسیل پر دباؤ اہم محرکات میں شامل ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ اضافہ چند ماہ کی رسدی بے ترتیبی تک محدود رہتا ہے یا عالمی افراطِ زر میں دوبارہ پائیدار غذائی دباؤ پیدا کرتا ہے۔
عالمی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران کے ردعمل کے خدشات نے عالمی فنانشل مارکیٹس میں ایک بڑا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ اس ناگہانی صورتحال نے نہ صرف روایتی اسٹاک مارکیٹس اور بانڈز کو ہلایا ہے بلکہ ڈیجیٹل اثاثوں، بالخصوص Crypto Market کو بھی شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں