EUR/USD کی قیمت 1.12517 کے زون پر مستحکم ٹریڈ کر رہی ہے۔ ڈالر انڈیکس میں 101.92 کے قریب محدود تحرک اور انٹرسٹ ریٹ ڈیفرینشل کے استحکام نے یورو کو 1.12500 کی حمایتی سطح سے اوپر سہارا دیا ہوا ہے۔
"differences between g 20 and imf on re scheduling of loans" کے لیے 1170 نتائج۔
EUR/USD کی قیمت 1.12517 کے زون پر مستحکم ٹریڈ کر رہی ہے۔ ڈالر انڈیکس میں 101.92 کے قریب محدود تحرک اور انٹرسٹ ریٹ ڈیفرینشل کے استحکام نے یورو کو 1.12500 کی حمایتی سطح سے اوپر سہارا دیا ہوا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
USD/JPY تقریباً 158.03 پر ہے۔ 158.25–158.50 کے اوپر قیمت برقرار رہنا مزید تیزی کی پہلی اہم شرط ہے۔ 157.30–157.50 فوری سپورٹ ہے، جبکہ 156.80–157.00 کے نیچے بریک ڈاؤن حالیہ ریکوری کو کمزور کرسکتا ہے۔ بڑے پرائس ایکشن میں ستمبر کی گراوٹ کے بعد 153.50 کے قریب سے ریکوری ہوئی ہے، جبکہ قلیل مدتی پرائس ایکشن میں خریداروں نے Higher Highs and Higher Lows بنانے کی کوشش کی ہے۔ بینک آف جاپان (BoJ) نے ستمبر میں پالیسی ریٹ بڑھا کر 1.25 فیصد کردیا تھا، جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو نے 16 ستمبر کو Fed Funds Target Range کو بڑھا کر 3.75–4.00 فیصد کردیا۔ آج مارکیٹ کی توجہ امریکی Nonfarm Payrolls (NFP)، بے روزگاری کی شرح اور اجرتوں کے اعداد پر ہے، کیونکہ یہ امریکی شرح سود اور ڈالر کی سمت کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔ ستمبر کے لیے مارکیٹ کی توقع تقریباً 90,000 نئی ملازمتوں اور 4.1 فیصد بے روزگاری کی شرح کی ہے۔
آج EURUSD کی محدود رینج اس بات کا احاطہ کر رہی ہے کہ کس طرح امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ اور افراط زر کے اعداد و شمار اس اہم کرنسی جوڑے کی اگلی سمت کا تعین کر رہے ہیں
جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے آغاز میں ہی بینچ مارک انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس نے طویل مدتی سرمایہ کاروں اور ڈے ٹریڈرز دونوں کو ایک بار پھر محتاط ہونے پر مجبور کر دیا۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جب اس شعبے سے متعلق اعداد و شمار جاری ہوتے ہیں تو عالمی مارکیٹس کی سمت تبدیل ہو جاتی ہے۔ US ISM Manufacturing PMI کی تازہ ترین رپورٹ نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں