پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر بیئریش یعنی مندی کے بادل چھا گئے ہیں۔آج ابتدائی کاروبار کے دوران ہی KSE100 انڈیکس میں 500 کے قریب پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی
"positive rally continues in pioneer cement in third day" کے لیے 1119 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک بار پھر بیئریش یعنی مندی کے بادل چھا گئے ہیں۔آج ابتدائی کاروبار کے دوران ہی KSE100 انڈیکس میں 500 کے قریب پوائنٹس کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی
پاکستان نے اپنے قومی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹیل معیشت کی تعمير میں ایک تاریخی پیش رفت حاصل کر لی ہے، جہاں Digital Subsidies کے تحت دی جانے والی سرکاری و غیر سرکاری رعایتیں اور سرمایہ کاری 1.054 ارب ڈالر (تقریباً 169 ارب روپے سے زائد) سے تجاوز کر چکی ہیں۔
آج ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ایک محتاط استحکام دیکھنے میں آیا، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) کی صنعت سے منسلک چپ بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز نے ایک دن پہلے کی شدید فروخت کے بعد سنبھلنے کی کوشش کی۔
بدھ کے روز ایشیائی ٹریڈنگ سیشن کے دوران USDJPY میں تازہ ترین خریداری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں یہ جوڑی 158.50 کے قریب تجارت کرتی نظر آئی، جو گزشتہ ہفتے کی بلند ترین سطح کے کافی قریب ہے۔ تاہم، یہ قیمت ایک مخصوص اور محدود رینج میں قید ہے۔
آسٹریلین ڈالر نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں حالیہ ٹریڈنگ سیشنز کے دوران نمایاں پیشرفت دکھاتے ہوئے 0.34 فیصد سے زائد کا اضافہ درج کیا ہے۔ AUDUSDاس وقت 0.6983 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور 0.7000 کی نفسیاتی اور تکنیکی سطح کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک KSE100 انڈیکس مسلسل شدید دباؤ، فروخت کے رجحان اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کی جیو پولیٹیکل کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو شدید محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
عالمی مالیاتی منظرنامے میں ایک اہم پیشرفت کے دوران پاکستان کو قرض لینے والے ترقی پذیر ممالک کے نئے بین الاقوامی فورم Borrowers Platform کی گورننگ کونسل کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے
پاکستان کی جانب سے چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کے دوبارہ اجرا کا عزم اور جاپانی مارکیٹ میں سیمورائی بانڈز جاری کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا فنانشل اسٹریٹیجی کا حصہ ہے
USD/JPY تقریباً 158.12 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ حالیہ تیزی کے بعد قیمت 158.70 کے قریب سے نیچے آئی، جہاں فروخت کا دباؤ بڑھا، تاہم 158.00 کے آس پاس خریداروں کی واپسی نے قیمت کو کچھ سہارا دیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ ایک اہم تکنیکی زون میں ہے جہاں اگلی سمت کا تعین سپورٹ اور ریزسٹینس کے ردعمل سے ہو سکتا ہے۔ وسیع تر رجحان میں ستمبر کی گراوٹ کے بعد بحالی نظر آتی ہے، لیکن مختصر مدت میں قیمت کی حرکت زیادہ تر ایک رینج کے اندر رہی ہے۔ 158.60–158.80 کے اوپر مضبوطی تیزی کو تقویت دے سکتی ہے، جبکہ 158.00 کے نیچے بریک ڈاؤن مزید کمزوری کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ مارکیٹ صورتحال موجودہ قیمت: تقریباً 158.12 قریبی ریزسٹینس: 158.40–158.60 اہم ریزسٹینس: 158.60–158.80 قریبی سپورٹ: 158.00–157.80 مختصر مدت کا رجحان: رینج میں اتار چڑھاؤ، قدرے محتاط اہم محرکات: امریکی ڈالر کی سمت، امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار اور جاپانی حکام کی ممکنہ مداخلت
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی تازہ ترین ورلڈ اکانومک آؤٹ لک (World Economic Outlook WEO) رپورٹ شائع کر دی ہے، جس نے عالمی اور خصوصاً پاکستان کے معاشی افق پر کئی نئے سوالات اور چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
آج کے سیشنز میں جب ایشیائی ٹیکنالوجی اسٹاکس اور امریکی نیسڈیک فیوچرز (Nasdaq Futures) میں شدید فروخت کا دباؤ دیکھا جا رہا تھا، Bitcoin نے اپنی ابتدائی گراوٹ پر قابو پاتے ہوئے 83000 ڈالر کی سطح کو دوبارہ حاصل کر لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس کے ساتھ 2.25 ملین بیرل سے زائد Diesel کی درآمد کے معاہدے نے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی توانائی کی مارکیٹس کو ایک نئی سمت دی ہے
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں