21 اگست 2026 کو عالمی کرپٹو مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، Bitcoin اور Ethereum نے نمایاں اضافہ ظاہر کیا جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR مستحکم رہا۔
"us dollar declined as investors are waiting for us retail sales report and japanese monetary policy" کے لیے 1141 نتائج۔
21 اگست 2026 کو عالمی کرپٹو مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی، Bitcoin اور Ethereum نے نمایاں اضافہ ظاہر کیا جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR مستحکم رہا۔
GBP/USD، 1.3600 کے اوپر مضبوط ہے۔ 1.3658 کے اوپر بریک آؤٹ مزید تیزی لا سکتا ہے، جبکہ 1.3550 اہم سپورٹ ہے۔
آج، 19 اگست 2026 کو، عالمی کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن اور ایتھیریم میں معمولی مثبت رجحان دیکھا گیا، جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں معمولی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آج کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum میں معمولی تیزی دیکھی گئی جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
اس ہفتے شدید دباؤ کا شکار رہا اور جمعہ کے روز تقریباً 62,900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ حالیہ دنوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
چین کی توقعات سے مثبت معاشی کارکردگی اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر دیا، جس کے نتیجے میں Bitcoin، امریکی اسٹاک فیوچرز اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی
Asian Stocks میں اس وقت ایک غیر معمولی اور پیچیدہ مرحلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک طرف جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی جدت نے پچھلے چند برسوں میں اسٹاکس کو بلندیوں پر پہنچایا، وہی اب سرمایہ کار اس ٹیکنالوجی پر ہونے والے اربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات کی معقولیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان ورلڈ بینک گروپ کی گارنٹیز کے ذریعے تقریباً $1.5bn کا فنڈ حاصل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہا ہے
آج US CPI Inflation Report جاری ہونے کے بعد یورو کی قدر میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے اور یہ 0.55% گر کر 1.1135 کی سطح پر آ گیا ہے، جو مئی 2025 کے بعد اس کی سب سے نچلی ترین سطح ہے
بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر شینیچی اوچیڈا نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ BOJ AI Monetary Policy کے فیصلوں میں اب ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں