بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت $4,189.76 فی اونس پر مستحکم ہے جبکہ امریکی 10 سالہ ییلڈز 5.293 فیصد تک بڑھنے سے قیمتوں پر شدید دباؤ ہے۔ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے۔
تلاش
"usdjpy rebound analysis us cpi inflation impact" کے لیے 1052 نتائج۔
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
Gold اس وقت $4,193 کے قریب trade کر رہا ہے۔ حالیہ کمی کے بعد Gold میں recovery دیکھی جا رہی ہے۔ $4,200 اہم resistance ہے۔ $4,227 کے اوپر مزید recovery ممکن ہے۔ $4,100 اہم support level ہے۔ اس سے نیچے کمی selling pressure بڑھا سکتی ہے۔ US inflation data Gold کی اگلی movement پر اثر ڈال سکتا ہے۔ US Dollar اور Treasury yields بھی اہم رہیں گے۔
پاکستان میں سی پی آئی افراط زر کی شرح 11.10% تک محدود رہنے اور حقیقی شرح سود مثبت زون میں داخل ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکانات کا تفصیلی جائزہ۔
ستمبر کے مہینے میں چین کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (Chinese Manufacturing PMI) بڑھ کر 50.1 پر پہنچ گیا ہے، جو کہ اگست میں 49.8 تھا۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
امریکہ اور چین نے اپنے تجارتی معاہدے میں دو ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ واشنگٹن میں صدر شی جن پنگ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی دوسری سربراہی ملاقات کے اہم ترین نتائج میں سے ایک ہے
پاکستان کی معیشت افراط زر میں 11.10 فیصد تک کمی، 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور ایکسچینج ریٹ کے 276.91 روپے پر استحکام کے ساتھ مانیٹری نرمی اور بیرونی توازن کی مستحکم راہ پر گامزن ہے۔
عالمی فاریکس مارکیٹ میں امریکی بانڈ ییلڈز کے 5.18% تک پہنچنے کے بعد امریکی ڈالر نے اپنی بالادستی قائم رکھی ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں یورو اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ انٹربینک میں روپے کی قدر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
برطانوی پاؤنڈ اور امریکی ڈالر (GBP/USD) کے تبادلے کی شرح 1.3238 کے قریب معلق ہے، جہاں 1.3200-1.3250 کا حمایتی زون شدید آزمائش کا شکار ہے۔ برطانیہ میں 3.10% کی افراط زر کے ماحول میں بینک آف انگلینڈ کی پالیسی اور ڈالر کا استحکام کیبل پیئر کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔
یہ مضمون سیشن کے آغاز میں مؤثر کرنسی جوڑوں کی شناخت، اہم خبر‑بنیاد ٹریڈنگ پلان اور رسک مینجمنٹ کے عملی نکات پیش کرتا ہے۔