آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
"us senate will pass the crypto bill in next two months" کے لیے 562 نتائج۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
سونا (Gold) $4,000 کے بیس سے نکل کر $4,375.46 پر بند ہوا ہے، جس سے قلیل مدتی رجحان بلش (bullish) ہو گیا ہے، لیکن اب قیمت $4,350-$4,400 کے بھاری سپلائی (supply) اور لانگ ٹرم ٹرینڈ ریزسٹنس زون (long term trend resistance zone) کا امتحان لے رہی ہے۔ 14 روزہ RSI بڑھ کر 63.60 پر پہنچ چکی ہے، جو کہ مضبوط مومینٹم (momentum) کی علامت ہے مگر ابھی سونا (XAUUSD) اوور باٹ (over bought) نہیں ہوا۔ جو تاجر (trader) $4,000 کی سپورٹ (support) پر ڈر رہے تھے، وہ اب ریزسٹنس (resistance) کے قریب جذبات میں آ کر خریداری (buying) کر رہے ہیں۔ ٹرینڈ کا تجزیہ ضرور کریں، مگر خراب انٹری لوکیشن پر قیمت کا پیچھا نہ کریں۔ اندھا دھند خریداری کے بجائے یا تو $4,400 سے اوپر ٹھہراؤ (Acceptance) کا انتظار کریں، یا پھر $4,300-$4,320 کی سطح پر ایک منظم پل بیک (Controlled Pullback) اور ہائر لو (Higher Low) بننے پر محفوظ انٹری تلاش کریں۔
EUR/USD نئے ہفتے میں 1.1500 سے اوپر تیزی کے رجحان کے ساتھ داخل ہو رہا ہے، جبکہ کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا ہے۔ FOMC Minutes اور یورو زون کے معاشی اعداد و شمار پیئر کی اگلی بڑی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
اس ہفتے شدید دباؤ کا شکار رہا اور جمعہ کے روز تقریباً 62,900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ حالیہ دنوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے اور کشیدگی کے غیر حل شدہ رہنے کے باعث سونا Correction کا شکار ہوا اور ہفتے کا اختتام تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے ہوا۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم جانیں گے کہ Central Bank کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے، اور اس کے فیصلے عالمی و علاقائی معیشت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
افراط زر صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا خاموش طوفان ہے۔ جو کسی بھی ملک کی معیشت، کرنسی کی قدر اور عوام کی قوتِ خرید کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔
پیر کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں اس وقت مثبت رجحان دیکھا گیا جب مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب نے ٹیکنالوجی کے شعبے کو نئی زندگی بخشی، جبکہ خلیجی خطے سے تیل کی توقع سے زیادہ سپلائی کی اطلاعات کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں نرمی آئی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس آج معمولی 0.16% کے اضافے کے ساتھ 171,153 پوائنٹس پر بند ہوا، جو پچھلے دن کی مندی کے بعد استحکام کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ 170,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ سطح کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ وسیع تر شرکت کی کمی اب بھی تشویش کا باعث ہے۔
SE Fruits and Vegetable Limited کا IPO اسی نوعیت کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ جیسے ہی اس کمپنی کا بک بلڈنگ (Book Building) کا مرحلہ شروع ہوا، صرف دو گھنٹوں کے اندر اندر پورا حصہ سبسکرائب ہو گیا، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی ایک نئی مثال قائم کی۔
ساؤتھ کوریا کے دوسرے بڑے بینک، ہانا بینک (Hana Bank) نے یوروکلیئر (Euroclear) کے بلاک چین پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے ملک کا پہلا ڈجیٹل بانڈ جاری کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں