US CPI 3.35% پر مستحکم، 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.240% تک بڑھا اور ڈالر انڈیکس 101.27 پر مستحکم۔ فیڈ کی طویل عرصے تک بلند شرح سود کی پالیسی عالمی رسک‑آف کو مزید سخت کر رہی ہے۔
"audusd technical analysis forecast rba fed impact" کے لیے 647 نتائج۔
US CPI 3.35% پر مستحکم، 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.240% تک بڑھا اور ڈالر انڈیکس 101.27 پر مستحکم۔ فیڈ کی طویل عرصے تک بلند شرح سود کی پالیسی عالمی رسک‑آف کو مزید سخت کر رہی ہے۔
پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP/USD) نے 1.3200-1.3250 کے کلیدی حمایتی زون کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔ برطانیہ میں 3.10 فیصد کی سی پی آئی افراط زر اور بینک آف انگلینڈ کے سخت موقف کے باعث کیبل میں پیش قدمی کا امکان بڑھ رہا ہے۔
پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.10% تک نیچے آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس پالیسی ریٹ کو 11.50% سے مزید کم کرنے کی گنجائش پیدا ہو چکی ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آنے والا فیصلہ معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔
عالمی فنانشل مارکیٹس (Global Financial Markets) میں حالیہ دنوں کے دوران ایک بار پھر شدیداتار چڑ ھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ایک طرف فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود (Interest Rates) میں متوقع اضافے ہیں، تو دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہے۔
یورو اور امریکی ڈالر (EUR/USD) کی جوڑی 1.13849 کی سطح پر فروخت کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈز میں 5.217% تک اضافے اور ڈالر انڈیکس (101.21) کی مضبوطی نے یورپی کرنسی کو بیک فٹ پر دھکیل دیا ہے۔
ان دنوں گلوبل مارکیٹ میں USDCAD میں تیزی کا موضوع انتہائی زیرِ بحث ہے، جہاں کینیڈین ڈالر (CAD) کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی اور 10 سالہ ییلڈ کی 5.184 فیصد کی بلند سطح نے عالمی منڈیوں میں ری پرائسنگ کے عمل کو جاری رکھا ہوا ہے۔ افراط زر کے 3.35 فیصد پر قائم رہنے سے ابھرتی ہوئی معیشتوں پر شدید دباؤ ہے۔
SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
عالمی مارکیٹس اور کرپٹو انڈسٹری میں ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نومبر کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ایران پر مزید فوجی حملوں کے امکان کو رد نہ کرنے کے بعد، Bitcoin اور Nasdaq futures میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
عالمی معاشی تناظر میں افراط زر کے اعداد و شمار میں نرمی اور مرکزی بینکوں کے نرم موقف کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ امریکی CPI 3.35% اور DXY 101.16 پر موجود ہیں جس سے کراس ایٹ منڈیوں میں نئی حرکیات جنم لے رہی ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی کی جانب گامزن ہیں جہاں برینٹ 0.91 فیصد اضافے کے ساتھ $98.33 پر آگیا ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ کے درمیان اسپریڈ میں کمی امریکی طلب کی مضبوطی اور اوپیک پلس کے سپلائی کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔
آج نئے ہفتے کے آغاز میں، مارکیٹ کا سب سے اہم موضوع EURUSD کی قدر میں کمی بن چکا ہے، جہاں یورو اور امریکی ڈالر (US Dollar) کا یہ جوڑا شدید دباؤ کے بعد نیچے آ گیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں