مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
"what is us gdp report and how it can effect the markets" کے لیے 1169 نتائج۔
مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث PSX میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس سے KSE100 انڈیکس سینکڑوں پوائنٹس نیچے آ گیا۔
EUR/USD اس وقت 1.1630 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے اور 1.1600 کے اہم support level سے اوپر برقرار ہے۔ مارکیٹ کی توجہ ECB کے ممکنہ 25 basis points rate hike اور Christine Lagarde کے comments پر ہے۔ 3.3Eurozone inflation فیصد تک پہنچنے سے ECB کے لیے inflation pressure اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ دوسری جانب US CPI data اور بڑھتی ہوئی US Dollar oil prices اور Federal Reserve کی policy expectations کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تکنیکی طور پر 1.1650 کے اوپر break ہونے سے 1.1700 اور 1.1750 کی طرف تیزی کا امکان بڑھ سکتا ہے، جبکہ 1.1600 سے نیچے break ہونے پر 1.1550 اور 1.1500 اہم levels بن سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر EUR/USD کا outlook 1.1600 کے اوپر محتاط طور پر مثبت ہے، لیکن ECB اور US CPI کے دوران مارکیٹ میں volatility بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج شدید فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جب دنیا بھر میں بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے
یورپی بینکنگ کے شعبے میں ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آج اٹلی کے معروف مالیاتی ادارے UniCredit کو یورپی مرکزی بینک کی جانب سے ایک بہت بڑا ریگولیٹری ریلیف مل گیا ہے۔
یورپی اوپن میں STOXX 600 تقریباً 0.2 فیصد، DAX 0.3 فیصد اور CAC 40 تقریباً 0.4 فیصد نیچے رہے، جبکہ FTSE 100 تقریباً مستحکم رہا؛ یہ ابتدائی سیشن کی تصویر ہے، حتمی اختتامی قیمتوں کی رپورٹ نہیں۔ Brent تقریباً 98.5 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے توانائی رسد، کاروباری لاگت اور مہنگائی کے خدشات بڑھے، تاہم ہر یورپی شعبے پر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوں گے۔ جرمن برآمدات جولائی میں ماہانہ 0.8 فیصد اور درآمدات 5.7 فیصد کم ہوئیں؛ تجارتی فاضل 21.3 ارب یورو ہوگیا، مگر برآمدات سالانہ بنیاد پر اب بھی بڑھی ہیں۔ Novartis میں تقریباً 8.8 فیصد کمی کا تعلق del-desiran کے مطالعے سے تھا، جبکہ Sandoz تقریباً 2.9 فیصد بڑھا؛ کمپنی مخصوص عوامل کو معاشی دباؤ سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ECB کا فیصلہ 10 ستمبر کو متوقع ہے؛ اگست کا ابتدائی افراط زر 3.3 فیصد ہے، لیکن آئندہ پالیسی کے لیے توانائی کے ساتھ اجرتیں، بنیادی مہنگائی اور نمو بھی اہم ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ابتدائی سیشن کے دوران جو مندی دیکھی گئی ہے، اس نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط رہنے پر مجبور کر دیا ہے
نامور عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز ریٹنگز (Moody’s Ratings) کے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے اس Hormuz Shock کو 2022 کے ہولناک تیل بحران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کیا ہے۔
جاپانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے دوران ملک میں Japan real wages میں سالانہ بنیادوں پر 2.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
PSX میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس تک گر گیا۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مقامی اور بین الاقوامی عوامل بیک وقت مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں
USD/JPY میں Selling Pressure برقرار ہے۔ BoJ کی Rate Hike Expectations سے Japanese Yen مضبوط ہو رہا ہے۔ Carry Trade Unwinding بھی Yen کو Support دے رہی ہے۔ 160.00 کے قریب Japanese Intervention Risk اہم ہے۔ دوسری طرف مضبوط US Jobs Data اوDollar Fed Rate Expectations کو Support دے رہی ہیں۔ US CPI Data اگلی بڑی Market Move کے لیے اہم ہوگا۔ 155.00 اہم Support ہے، جبکہ 157.50 Key Resistance ہے۔ 155.00 کے نیچے Pair 154.00 اور 153.50 کی طرف جا سکتا ہے۔ 157.50 کے اوپر Breakout کی صورت میں 159.00 اور 160.00 کی طرف Recovery ممکن ہے۔ مجموعی طور پر USD/JPY کا Short Term Bias Cautiously Bearish ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (Standard Chartered) نے دبئی انٹرنیشنل فنانس سینٹر (DIFC) میں اپنے برانچ کے ذریعے ادارہ جاتی سطح پر بٹ کوائن اور ایتھریم کی اسپاٹ ٹریڈنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں