چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ واشنگٹن US China Summit کے دوران جو اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی اور اسکے بعد جاری کئے جانیوالے بیانات نے عالمی معیشت کا رخ بدلنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے
"اقتصادی کیلنڈر پر نشانات اور اشاروں کو" کے لیے 1161 نتائج۔
چینی صدر شی جن پنگ کے دورہ واشنگٹن US China Summit کے دوران جو اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی اور اسکے بعد جاری کئے جانیوالے بیانات نے عالمی معیشت کا رخ بدلنے کی صلاحیت کو اجاگر کیا ہے
USD/JPY کی جوڑی 158 کی سطح سے اوپر مستحکم ہو رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور جاپان کے درمیان شرح سود کا وسیع فرق ہے۔ بینک آف جاپان کی محتاط مانیٹری پالیسی جاپانی ین پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ممکنہ مداخلت کے خدشات بالائی حد کو محدود کر رہے ہیں۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈز 5.114% پر مستحکم ہیں، جو اس جوڑی کو مضبوط سپورٹ فراہم کر رہی ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی آنے والی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان ہے۔ یہ کمی کم ہوتی ہوئی افراطِ زر اور معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔ تاہم، بیرونی کھاتوں پر دباؤ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال SBP کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس 177,371 پوائنٹس پر بند ہوا، 0.23% کے معمولی اضافے کے ساتھ۔ یہ گہرائی سے جائزہ تکنیکی اور بنیادی عوامل کا احاطہ کرتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس آج 177,371 پوائنٹس پر بند ہوا، جس میں 0.41% کی گراوٹ دیکھی گئی۔ ہم آئندہ رجحانات اور تکنیکی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
آج کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن اور ایتھیریم میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ پاکستان میں USDT/PKR کی P2P شرح 2.33 فیصد اضافے کے ساتھ 276.25 روپے پر پہنچ گئی۔
اس ہفتے شدید دباؤ کا شکار رہا اور جمعہ کے روز تقریباً 62,900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ حالیہ دنوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی
یورپی کرنسی Euro نے جمعرات کی ابتدائی یورپی تجارت کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی، جس کے بعد EURUSD کا تبادلہ نرخ 1.1245 کے قریب پہنچ گیا۔ تاہم، اس بحالی کے باوجود مارکیٹ کا مجموعی رجحان محتاط ہے،
پاکستان اور مالدیپ (Maldives) کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطوں نے دوطرفہ تعلقات کے ایک اہم پہلو کو نمایاں کیا ہے
عالمی فنانشل مارکیٹس میں منگل کو اس وقت دباؤ بڑھ گیا جب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، خام تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں اور سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالی نتائج پر توجہ مرکوز کر دی۔
رواں سال فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور بڑھتے ہوئے فوجی تنازعات کی وجہ سے اس اسٹریٹجک سمندری گزرگاہ میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کی ایک نئی اور خطرناک لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز ایک انتہائی اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن دیکھنے میں آیا، جہاں منافع کی وصولی اور فروخت کے شدید دباؤ کے باعث بینچ مارک KSE100 انڈیکس 1100 پوائنٹس سے زائد گر گیا
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں