پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
"downtrend in asian stocks due to u s china tension" کے لیے 535 نتائج۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
نیو جرسی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ (U.S. Supreme Court) سے رجوع کرنے کا فیصلہ پریڈکشن مارکیٹس (Prediction Markets) کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں بدھ کے روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران شدید دباؤ دیکھا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات اور عالمی مارکیٹس میں فروخت کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
امریکی ڈالر میں کچھ کمزوری کی وجہ سےآج لندن سیشن کے دوران EUR/USD میں محدود تیزی رہی، لیکن ابھی بھی Fed اور ECB کی monetary policy expectations کے درمیان فرق کی وجہسے pair کی مجموعی direction متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے یورپی معاشی ڈیٹا میں بہتری یورو کو support فراہم کر سکتی ہے، اس کے برعکس اگر امریکی data بہتری دکھاتے ہیں تو dollar کی demand دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف U.S. Treasury yields اور German Bund yields کے درمیان spread کا فرق بھی EUR/USD کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ price action کے حالات دیکھتے ہووے traders ابھی کسی واضح ڈائریکشن کے لیے macro signals کا انتظار کر رہے ہیں، اس لیے London session میں ہونے والی initial move کو final trend سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,454.99 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ DXY کی مسلسل مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط فی تولہ سونا 455,500 روپے پر مستحکم ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 1.05 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 176,976 پوائنٹس پر بندش دی، جو 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے ہے۔ مارکیٹ کی وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں