بین الاقوامی سرمائے کی مارکیٹس میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنی مضبوط موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سنگ میل عبور کرتے ہوئے ڈوئل ٹرانش یورو بانڈ کے ذریعے 3 بلین ڈالر کی ریکارڈ رقم جمع کی ہے۔
"mixed closing of the day in us stocks" کے لیے 561 نتائج۔
بین الاقوامی سرمائے کی مارکیٹس میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنی مضبوط موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ پاکستان نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سنگ میل عبور کرتے ہوئے ڈوئل ٹرانش یورو بانڈ کے ذریعے 3 بلین ڈالر کی ریکارڈ رقم جمع کی ہے۔
گزشتہ روز کے سیشن میں تقریباً ایک فیصد کی گراوٹ کے بعد KSE100 انڈیکس نے جمعرات کی صبح زبردست واپسی کی۔ کاروبار کے ابتدائی منٹوں میں انڈیکس 950 سے زائد پوائنٹس اوپر چلا گیا اور 175734.10 کی سطح تک پہنچ گیا۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی طرف سے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی ایک وسیع قسم کو Novel ETFs کا لیبل دینے کی تجویز پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
نیو جرسی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ (U.S. Supreme Court) سے رجوع کرنے کا فیصلہ پریڈکشن مارکیٹس (Prediction Markets) کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج PSX میں بدھ کے روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران شدید دباؤ دیکھا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، توانائی کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات اور عالمی مارکیٹس میں فروخت کے دباؤ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 1300 پوائنٹس تک گر گیا
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
امریکی ڈالر میں کچھ کمزوری کی وجہ سےآج لندن سیشن کے دوران EUR/USD میں محدود تیزی رہی، لیکن ابھی بھی Fed اور ECB کی monetary policy expectations کے درمیان فرق کی وجہسے pair کی مجموعی direction متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے یورپی معاشی ڈیٹا میں بہتری یورو کو support فراہم کر سکتی ہے، اس کے برعکس اگر امریکی data بہتری دکھاتے ہیں تو dollar کی demand دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف U.S. Treasury yields اور German Bund yields کے درمیان spread کا فرق بھی EUR/USD کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ price action کے حالات دیکھتے ہووے traders ابھی کسی واضح ڈائریکشن کے لیے macro signals کا انتظار کر رہے ہیں، اس لیے London session میں ہونے والی initial move کو final trend سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے بندش دی، جو مارکیٹ میں محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور مارکیٹ وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے اس منفی جھکاؤ کو مزید تقویت بخشی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں