ہارمونک پیٹرنز تکنیکی تجزیہ کا ایک طاقتور ٹول ہیں جو فبونچی ریشوز کی بنیاد پر قیمتوں کے مخصوص ڈھانچے کو پہچانتے ہیں۔ یہ گائیڈ Gartley، Bat، Butterfly، Crab اور Shark پیٹرنز کی تفصیل، ان کے فبونچی ریشوز، پوٹینشل ریورسل زون (PRZ) کی شناخت، تصدیق، اور رسک/ریوارڈ کے ساتھ ٹریڈ سیٹ اپ کو واضح کرتی ہے۔
تلاش
"south korea and block chain tokens government spending" کے لیے 885 نتائج۔
جمعہ، 25 ستمبر کو 07:04 UTC پر STOXX 600 تقریباً 0.7 فیصد بڑھ کر 640.66 پوائنٹس پر تھا؛ یہ ابتدائی سیشن کی ریڈنگ ہے، دن کی اختتامی قیمت نہیں۔ Brent جمعرات کے 106.60 ڈالر کے تصفیے کے مقابلے میں جمعہ کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 105.50 ڈالر رہا؛ کمی کے باوجود توانائی کی لاگت اب بھی بلند ہے۔ سفری اور تفریحی شعبہ تقریباً 1.2 فیصد بڑھا، Ryanair اور Lufthansa میں 2 فیصد سے زیادہ تیزی آئی، جبکہ توانائی کے حصص تقریباً 0.7 فیصد نیچے رہے۔ جرمنی کا DAX تقریباً 0.6 فیصد اوپر تھا، مگر اکتوبر کے لیے صارف اعتماد کا اشاریہ منفی 30.6 پر آگیا؛ ستمبر کی نظرثانی شدہ ریڈنگ منفی 26.8 تھی۔ امریکی Bond Yields جمعہ کو بلند سطحوں سے کچھ نیچے آئے، لیکن مشرق وسطیٰ اور مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں؛ بحالی کا تسلسل تیل، بانڈز اور خریداری کی وسعت سے جانچا جائے گا۔ ابتدائی تیزی کو پائیدار رجحان سمجھنے کے لیے مزید تجارتی تصدیق درکار ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب امریکی مرکزی بینک (US Federal Reserve) نے GENIUS Act stablecoin regulations کے نفاذ کے لیے باضابطہ قوانین کی تجاویز پیش کر دیں۔
Bitget کے مطابق 24 ستمبر کو بعض Hot اور Warm Wallets سے تقریباً 351.6 ملین ڈالر کے اثاثوں کی غیر مجاز منتقلی ہوئی؛ حتمی نقصان کا تعین تحقیقات اور بازیابی کے بعد ہوگا۔ ایکسچینج نے رقوم نکلوانا (Withdrawals) معطل رکھا ہے، جبکہ جمع کرانا اور تجارت جاری ہیں۔ بحالی کا حتمی وقت سامنے نہیں آیا اور صارفین کی رسائی اہم سوال ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ Cold Wallets محفوظ ہیں اور 464 ملین ڈالر سے زیادہ کا تحفظ فنڈ نقصان پورا کرسکتا ہے؛ یہ ادارے کا دعویٰ ہے، آزادانہ آڈٹ کا نتیجہ نہیں۔ 25 ستمبر کی دستیاب ریڈنگز میں BTC تقریباً 84,000 ڈالر اور ETH تقریباً 2,676 ڈالر پر تھا؛ محدود قیمت ردعمل کو پورے خطرے کے خاتمے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ اب توجہ مکمل تحقیق، رقوم کی واپسی، متاثرہ پتوں اور اثاثوں کی بازیابی پر ہے۔ محض والیٹ منتقلی فروخت ثابت نہیں کرتی، نہ قیمت میں ہر کمی کو اس حملے سے جوڑا جاسکتا ہے۔
عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت Japanese JGB Bond Yields پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک بڑی حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں امریکی ٹریژری کی قیادت میں 'اسٹیپننگ' کا رجحان مزید گہرا ہو گیا ہے۔ US 10Y ییلڈ 5.162% تک بڑھ گئی ہے جبکہ US 2Y ییلڈ میں کمی آئی ہے، جو مستقبل میں مضبوط معاشی نمو اور افراط زر کی توقعات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں مارکیٹ کی توقعات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
GBP/USD اس وقت 1.3225 کے قریب trade کر رہا ہے۔ مضبوط US Dollar کے باعث پاؤنڈ پر دباؤ برقرار ہے۔ 1.3200 موجودہ اہم support level ہے۔ اس کے نیچے break ہونے سے 1.3150 اور 1.3100 اہم ہو سکتے ہیں۔ اوپر کی طرف 1.3265 پہلا resistance ہے۔ 1.3300 کے اوپر مضبوطی آنے سے 1.3350 اگلا resistance بن سکتا ہے۔ US yields، Federal Reserve expectations اور UK economic data آئندہ movement کے لیے اہم رہیں گے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
EUR/USD تقریباً 1.1371 پر trade کر رہا ہے۔ Pair حالیہ دو ماہ کی کم ترین سطح 1.1370 کے قریب ہے۔ مضبوط امریکی ڈالر اور بلند US Treasury yields دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ Fed کی ممکنہ rate hike کی توقعات بھی Dollar کو support دے رہی ہیں۔ جرمنی کا بہتر economic data Euro کو محدود support دے رہا ہے۔ 1.1370 اہم support ہے۔ اس کے نیچے 1.1350 اور 1.1325 اہم levels ہیں۔ اوپر 1.1385، 1.1400 اور 1.1450 اہم resistance levels ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ان کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جنہوں نے بورڈ کے الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم کے ساتھ اپنے کاروبار کو منسلک نہیں کیا
مشہور ایکسچینج Bitget ہیک کر لی گئی جس کے بعد نامعلوم سائبر حملہ آوروں نے 350 ملیئن ڈالرز سے زائد کے فنڈز نامعلوم ایڈریسز پر منتقل کر دیئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔