پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے بل بوتے پر توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں روپیہ انٹربینک میں 277.10 پر مستحکم ہے۔
"us jobless claims released which caused us dollar gains" کے لیے 928 نتائج۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے بل بوتے پر توازن برقرار رکھے ہوئے ہے، جہاں روپیہ انٹربینک میں 277.10 پر مستحکم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے ڈیزل کی مختلف اقسام پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کا بنیادی مقصد بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانا اور صارفین کے لیے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج کے پورے سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجوہات بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ملک کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی شورش تھیں ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 2,300 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
گولڈ مارکیٹ میں اس وقت ایک اہم موڑ آ چکا ہے جہاں سرمایہ کار عالمی سطح پر بدلتی ہوئی معاشی صورتحال اور بانڈز کی منڈی میں اتھل پتھل کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔Gold Price آج $4,200 کی نفسیاتی اور تکنیکی حد سے نیچے پھنسی ہوئی ہے۔
کوہ نور پاور کمپنی لمیٹڈ (Kohinoor Power Company Limited) نے مالی سال 2026 کے مالیاتی نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جن کے مطابق کمپنی طویل عرصے بعد منافع کے زون سے نکل کر خالص نقصان کا شکار ہو گئی۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل 102.85 ڈالر پر مضبوط ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90.65 ڈالر تک گر گیا ہے، جس سے دونوں کا فرق 12.20 ڈالر ہو گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں سونا (XAU/USD) $4,160.88 پر بحالی کی کوشش کر رہا ہے، تاہم پاکستان میں 24 قیراط سونا 0.92 فیصد کمی کے ساتھ 432,979 روپے فی تولہ پر آ گیا ہے۔ پڑھیں اس ڈائیورجنس کی مکمل وجوہات اور تکنیکی جائزہ۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے تھر کول بلاک ٹو کے فیز تھری (Thar Coal Block II Phase III) کے افتتاح نے ملکی توانائی اور مالیاتی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستان کی مچھیوں اور سمندری خوراک کی برآمدات یعنی Pakistan Seafood Exports میں رواں مالی سال کے پہلے سہ ماہی (1QFY27) کے دوران شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جاپانی وزیراعظم ثنائ تاکائچی (Sanae Takaichi) نے پارلیمنٹ سے اپنے پالیسی خطاب میں مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) قائم رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں KSE100 انڈیکس ایک ہزار پوائنٹس پوائنٹس نیچے آ گیا۔ عالمی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی امریکی ٹریژری ییلڈز ، اور مقامی معاشی اشاریوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
عالمی انرجی مارکیٹس میں آج اس وقت ایک اہم موڑ دیکھا گیا جب Crude Oil Prices میں Middle East Crisis کے تناظر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں