Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"audusd is trading in narrow range ahead of us tech earning report" کے لیے 561 نتائج۔

KSE-100 انڈیکس 177,000 سے نیچے، وسیع مارکیٹ میں کمزوری اور فروخت کا دباؤ
KSE-100 انڈیکس 177,000 سے نیچے، وسیع مارکیٹ میں کمزوری اور فروخت کا دباؤ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

سید جواد ·
📈

امریکی ڈالر میں کچھ کمزوری کی وجہ سےآج لندن سیشن کے دوران EUR/USD میں محدود تیزی رہی، لیکن ابھی بھی Fed اور ECB کی monetary policy expectations کے درمیان فرق کی وجہسے pair کی مجموعی direction متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے یورپی معاشی ڈیٹا میں بہتری یورو کو support فراہم کر سکتی ہے، اس کے برعکس اگر امریکی data بہتری دکھاتے ہیں تو dollar کی demand دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف U.S. Treasury yields اور German Bund yields کے درمیان spread کا فرق بھی EUR/USD کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ price action کے حالات دیکھتے ہووے traders ابھی کسی واضح ڈائریکشن کے لیے macro signals کا انتظار کر رہے ہیں، اس لیے London session میں ہونے والی initial move کو final trend سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔

محمد اظہر سلیم ·
KSE-100: تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ، کمزور وسعت اور ٹرن اوور
KSE-100: تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ، کمزور وسعت اور ٹرن اوور

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج بھی ایک تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں انڈیکس نے معمولی مثبت بندش دی لیکن مارکیٹ کی مجموعی وسعت (breadth) اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ اب بھی ایک واضح رجحان کی تلاش میں ہے۔

سید جواد ·
امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد چاہتے ہیں
امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد چاہتے ہیں

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔

محمد اظہر سلیم ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں