پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
"crypto regulations institutions are waiting for the new legislations" کے لیے 1014 نتائج۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کی 101.92 پر پیش قدمی کے نتیجے میں عالمی سونا $4,140.52 کی سطح پر آ گیا ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا 441,000 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ تکنیکی ڈھانچہ بئریش دباؤ کی نشان دہی کر رہا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل 102.25 ڈالر پر مستحکم ہو گیا ہے جس نے پچھلی بئریش تھیسس کو منسوخ کر دیا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے 91.11 ڈالر تک گرنے سے بینچ مارک سپریڈ 11.14 ڈالر تک پھیل گیا۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر 276.82 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ مثبت حقیقی شرح سود روپے کو بنیادی سہارا فراہم کر رہی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 کی سطح پر 0.40 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ نتائج کے سیزن کے قریب بینکنگ، ای اینڈ پی، سیمنٹ اور دیگر 6 اہم سیکٹرز کا جامع بنیادی اور تکنیکی تجزیہ۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) 6 فیصد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ستمبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والی اس رپورٹ نے نہ صرف وال اسٹریٹ (Wall Street) کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ دنیا بھر کے کرنسی اور کموڈٹی ٹریڈرز کو بھی نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔
ٹیتھر (Tether) کا سب سے بڑا سٹیبل کوائن USDT ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے اصل گھر یعنی بٹ کوائن (Bitcoin) پر واپس آ رہا ہے۔ یہ پیش رفت کرپٹو انڈسٹری میں ایک نئے دور کا آغاز کر رہی ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کا سیشن بریک آؤٹ کی ناکامی پر ختم ہوا۔ KSE-100 انڈیکس انٹرا ڈے ہائی 172,756 سے گر کر 168,155 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے تکنیکی ساخت میں واضح مندی کے اشارے مل رہے ہیں۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں