آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
"decline continues in pakistani rupees where as gold prices also reached on ever high level" کے لیے 564 نتائج۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.92 روپے پر بند ہوا، جبکہ روپے نے 0.40% کی معمولی بہتری دکھائی۔ عالمی DXY انڈیکس میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی ڈالر کی کمزوری اور ECB کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات سے EUR/USD کو سپورٹ مل رہی ہے۔ 1.1600 اہم مزاحمتی سطح ہے۔
آج 17 اگست 2026 کو سونے کی قیمتیں مقامی اور عالمی منڈیوں میں مستحکم رہیں، پاکستانی مارکیٹ میں 24 قیراط سونا 453,700 روپے فی تولہ پر برقرار ہے جبکہ عالمی سطح پر XAU/USD $4,392.20 پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی مارکیٹ میں بنیادی طلب کے دباؤ کے ساتھ ساتھ پچھلے دن کی معمولی بہتری کو مکمل طور پر ختم کر رہا ہے۔ USD/PKR انٹربینک ریٹ 277.42 روپے پر بند ہوا، جو دن کی بلند ترین سطح تھی۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی گراوٹ کو روکا ہے اور 277.53 پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو پچھلے سیشن کے مقابلے میں معمولی بہتری ہے۔ تاہم، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی درآمدی دباؤ کے پیش نظر یہ استحکام نازک ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج بھی ایک تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں انڈیکس نے معمولی مثبت بندش دی لیکن مارکیٹ کی مجموعی وسعت (breadth) اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ اب بھی ایک واضح رجحان کی تلاش میں ہے۔
ہر سرمایہ کاری کے فیصلے کی جڑ: زیادہ منافع کی چاہت ہمیشہ زیادہ رسک لے کر آتی ہے۔ اپنا رسک پروفائل کیسے پہچانیں۔
نئے سرمایہ کاروں کے لیے مکمل ہب — بنیادی اصول، رسک، اور پاکستان کے تمام سرمایہ کاری کے راستے سادہ اردو میں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں