Brent Crude Oil آج یورپی سیشنز کے دوران 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے چھ ہفتے کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
"negative trend in psx is observed as imf ruled out tax amnesty scheme" کے لیے 563 نتائج۔
Brent Crude Oil آج یورپی سیشنز کے دوران 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کرتے ہوئے چھ ہفتے کی نئی بلندی پر پہنچ گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں شدت اختیار کرتی ہوئی کشیدگی اور اہم بحری گزرگاہوں پر ہونے والے حملے ہیں۔
یمنی حوثی فورسز کی طرف سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات (Energy Facilities) اور شہروں پر کیے جانے والے حملوں نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس نے آج بھی ایک تنگ رینج میں اتار چڑھاؤ دکھایا، جہاں انڈیکس نے معمولی مثبت بندش دی لیکن مارکیٹ کی مجموعی وسعت (breadth) اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی نشاندہی کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ اب بھی ایک واضح رجحان کی تلاش میں ہے۔
AUD/USD نے نئے ہفتے کا آغاز مضبوط انداز میں کیا ہے اور آسٹریلوی ڈالر 0.7170 کے قریب اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 0.7200 کی اہم سطح کے قریب پہنچنے کے بعد خریداروں کی نظریں مزید اضافے پر ہیں۔
سونے کی قیمت 4,500 ڈالر کے قریب مضبوط ہے۔ کمزور امریکی ڈالر اور ٹریژری ییلڈز میں کمی نے سونے کو سہارا دیا ہے۔ 4,525 ڈالر اہم مزاحمت ہے، جبکہ 4,447 ڈالر اہم سپورٹ ہے۔ اس کے اوپر رہنے کی صورت میں سونا 4,595 ڈالر کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
GBP/USD، 1.3600 کے اوپر مضبوط ہے۔ 1.3658 کے اوپر بریک آؤٹ مزید تیزی لا سکتا ہے، جبکہ 1.3550 اہم سپورٹ ہے۔
زیورات، سکے، ETF، یا ڈیجیٹل گولڈ — ہر طریقے کے فائدے اور نقصانات، اور پاکستان میں کون سا آپ کے لیے بہتر ہے۔
ہر سرمایہ کاری کے فیصلے کی جڑ: زیادہ منافع کی چاہت ہمیشہ زیادہ رسک لے کر آتی ہے۔ اپنا رسک پروفائل کیسے پہچانیں۔
سرمایہ کاری کی سادہ تعریف، بچت اور سرمایہ کاری کا فرق، اور مہنگائی کے مقابلے میں پیسے کی حقیقی طاقت کیسے بڑھائیں۔
امریکی ڈالر کی کمزوری اور ECB کی شرحِ سود میں اضافے کی توقعات سے EUR/USD کو سپورٹ مل رہی ہے۔ 1.1600 اہم مزاحمتی سطح ہے۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں