پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
"usdjpy trading in narrow range with fears of change in monetary policy" کے لیے 596 نتائج۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے نے آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی دیکھی، جو 0.42% کی گراوٹ کے ساتھ 277.36 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ کمی درآمدی دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی کے جاری رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اہم مزاحمتی سطحوں پر دباؤ برقرار ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.43 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ گراوٹ درآمدی ادائیگیوں کے مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید کمی کی ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.87 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.82 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سونے کی مارکیٹ رپورٹ کا خلاصہ (TL;DR): COT ڈیٹا کا وقتی مغالطہ: منگل (25 اگست) تک اوپن انٹرسٹ اور نان کمرشل لانگ پوزیشنز میں 5.3% اضافہ ہوا، لیکن یہ جمعہ کی گراوٹ سے پہلے کا منظرنامہ ہے، نہ کہ موجودہ پوزیشننگ کی عکاسی۔ گراوٹ کا اصل میکرو محرک: بدھ کے غیر متوقع PCE مہنگائی ڈیٹا اور جمعہ کو جیکسن ہول میں فیڈ کے سخت (Hawkish) بیانات نے شرحِ سود بڑھنے کے امکانات، ڈالر انڈیکس (99.71) اور شارٹ اینڈ ییلڈز کو بڑھایا۔ نتیجتاً سونا $4,698 کے ہائی سے 5% سے زائد گر کر $4,455 پر بند ہوا۔ تکنیکی نقصان: جمعہ کی اس گراوٹ سے سونے نے اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج ($4,513) کے اوپر بننے والا اہم بریک آؤٹ دوبارہ گنوا دیا ہے۔ آئندہ ہفتے کی نظر: اگلا سب سے اہم ایونٹ جمعہ 4 ستمبر کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز (NFP) رپورٹ ہے، جو فیڈ پالیسی اور سونے کے اگلے رجحان کا فیصلہ کرے گی۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں