Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
"eurozone sentix investor confidence data released which caused decline in euro" کے لیے 574 نتائج۔
Gold سونا 4,400 ڈالر کے قریب مضبوط ہے، جبکہ کمزور امریکی ڈیٹا اور فیڈ ریٹ ہائیک کی گھٹتی توقعات قیمت کو سپورٹ کر رہی ہیں۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی، جبکہ عالمی سطح پر DXY انڈیکس میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آج 16 اگست 2026 کو کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum دونوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR کی قیمت 277.57 روپے پر مستحکم رہی۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں KSE-100 انڈیکس آج 0.12% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ 180,105 پوائنٹس پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں نے دن بھر محتاط رویہ اپنائے رکھا۔
اس ہفتے شدید دباؤ کا شکار رہا اور جمعہ کے روز تقریباً 62,900 ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ حالیہ دنوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی
16 اگست 2026 کو سونے کی عالمی اور مقامی قیمتیں بغیر کسی بڑی تبدیلی کے مستحکم رہیں، جبکہ ڈالر انڈیکس (DXY) 99.64 پر مستحکم رہا۔
آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں 277.78 روپے پر بند ہوا، جس میں 0.31% کا اضافہ دیکھا گیا۔ مہنگائی اور عالمی DXY انڈیکس روپے پر اثرانداز۔
مارکیٹ میں اچھی Trading Strategy کے باوجود ایک غلط ٹریڈ بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کامیاب ٹریڈر صرف منافع کے امکانات نہیں دیکھتا۔ بلکہ نقصان کی حد بھی پہلے سے طے کرتا ہے۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم جانیں گے کہ Central Bank کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے، اور اس کے فیصلے عالمی و علاقائی معیشت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں