بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
"us jobless claims released which caused us dollar gains" کے لیے 929 نتائج۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کا سیشن بریک آؤٹ کی ناکامی پر ختم ہوا۔ KSE-100 انڈیکس انٹرا ڈے ہائی 172,756 سے گر کر 168,155 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے تکنیکی ساخت میں واضح مندی کے اشارے مل رہے ہیں۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
بٹ کوائن (BTC/USD) نے 2.22 فیصد اضافے کے بعد 85,940 ڈالر پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔ کنسولیڈیشن زون کے بریک آؤٹ اور 86,752 ڈالر کے یومیہ ہائی کے بعد ادارہ جاتی ڈیمانڈ اور ہالوِنگ سپلائی ڈائنامکس کا جائزہ۔
بٹ کوئن نے 83,000 ڈالر کی طویل اصلاحی رینج کو توڑتے ہوئے 85,939 ڈالر پر بریک آؤٹ درج کیا ہے۔ ایتھیریم میں معمولی پیش رفت کے ساتھ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT مستحکم بنا ہوا ہے۔
جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے آغاز میں ہی بینچ مارک انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس نے طویل مدتی سرمایہ کاروں اور ڈے ٹریڈرز دونوں کو ایک بار پھر محتاط ہونے پر مجبور کر دیا۔
گذشتہ رات Houthis Attack on Madina Al Munawara کے واقعے میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے پاور اسٹیشن اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں