ہارمونک پیٹرنز تکنیکی تجزیہ کا ایک طاقتور ٹول ہیں جو فبونچی ریشوز کی بنیاد پر قیمتوں کے مخصوص ڈھانچے کو پہچانتے ہیں۔ یہ گائیڈ Gartley، Bat، Butterfly، Crab اور Shark پیٹرنز کی تفصیل، ان کے فبونچی ریشوز، پوٹینشل ریورسل زون (PRZ) کی شناخت، تصدیق، اور رسک/ریوارڈ کے ساتھ ٹریڈ سیٹ اپ کو واضح کرتی ہے۔
تلاش
"kazou oueda announced to continue soft monetary policy" کے لیے 952 نتائج۔
ایلیٹ ویو تھیوری ایک طاقتور تکنیکی تجزیہ کا آلہ ہے جو رالف نیلسن ایلیٹ نے 1930 کی دہائی میں متعارف کروایا تھا۔ یہ تھیوری اس بنیادی اصول پر مبنی ہے کہ مالیاتی منڈیاں بے ترتیب حرکت نہیں کرتیں بلکہ انسانی نفسیات کے اجتماعی رجحانات کی عکاسی کرتی ہوئی قابلِ شناخت، بار بار دہرائی جانے والی لہروں (waves) میں آگے بڑھتی ہیں۔ یہ گائیڈ ایلیٹ ویو تھیوری کے بنیادی تصورات، اس کے اطلاق اور عام غلطیوں پر تفصیلی روشنی ڈالے گا۔
فبونیچی ریٹریسمنٹ اور ایکسٹینشن ٹریڈرز کو مارکیٹ میں ممکنہ پل بیک (pullback) اور قیمت کے اہداف کی شناخت میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ٹول فبونیچی ترتیب (sequence) پر مبنی ہے اور مختلف مالیاتی آلات جیسے فاریکس، اسٹاکس اور کموڈٹیز میں استعمال ہوتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی کریٹو کرنسی یعنی Bitcoin ایک محدود دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف عالمی مارکیٹس میں بانڈز کی فروخت میں کمی اور خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں میں نرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سرمایہ کاروں کی توجہ اب روایتی سرمائے سے ہٹ کر متبادل کرپٹوز (Altcoins) کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
جمعہ، 25 ستمبر کو 07:04 UTC پر STOXX 600 تقریباً 0.7 فیصد بڑھ کر 640.66 پوائنٹس پر تھا؛ یہ ابتدائی سیشن کی ریڈنگ ہے، دن کی اختتامی قیمت نہیں۔ Brent جمعرات کے 106.60 ڈالر کے تصفیے کے مقابلے میں جمعہ کی ایشیائی تجارت میں تقریباً 105.50 ڈالر رہا؛ کمی کے باوجود توانائی کی لاگت اب بھی بلند ہے۔ سفری اور تفریحی شعبہ تقریباً 1.2 فیصد بڑھا، Ryanair اور Lufthansa میں 2 فیصد سے زیادہ تیزی آئی، جبکہ توانائی کے حصص تقریباً 0.7 فیصد نیچے رہے۔ جرمنی کا DAX تقریباً 0.6 فیصد اوپر تھا، مگر اکتوبر کے لیے صارف اعتماد کا اشاریہ منفی 30.6 پر آگیا؛ ستمبر کی نظرثانی شدہ ریڈنگ منفی 26.8 تھی۔ امریکی Bond Yields جمعہ کو بلند سطحوں سے کچھ نیچے آئے، لیکن مشرق وسطیٰ اور مہنگائی کے خطرات برقرار ہیں؛ بحالی کا تسلسل تیل، بانڈز اور خریداری کی وسعت سے جانچا جائے گا۔ ابتدائی تیزی کو پائیدار رجحان سمجھنے کے لیے مزید تجارتی تصدیق درکار ہے۔
پاکستانی آٹوموبائل انڈسٹری میں ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے، سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ نے چین کے مشہور ادارے بی اے آئی سی گروپ کے پریمیم الیکٹرک وہیکل برانڈ "آرک فاکس" کو پاکستان کی مارکیٹ میں لانے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
Bitget کے مطابق 24 ستمبر کو بعض Hot اور Warm Wallets سے تقریباً 351.6 ملین ڈالر کے اثاثوں کی غیر مجاز منتقلی ہوئی؛ حتمی نقصان کا تعین تحقیقات اور بازیابی کے بعد ہوگا۔ ایکسچینج نے رقوم نکلوانا (Withdrawals) معطل رکھا ہے، جبکہ جمع کرانا اور تجارت جاری ہیں۔ بحالی کا حتمی وقت سامنے نہیں آیا اور صارفین کی رسائی اہم سوال ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ Cold Wallets محفوظ ہیں اور 464 ملین ڈالر سے زیادہ کا تحفظ فنڈ نقصان پورا کرسکتا ہے؛ یہ ادارے کا دعویٰ ہے، آزادانہ آڈٹ کا نتیجہ نہیں۔ 25 ستمبر کی دستیاب ریڈنگز میں BTC تقریباً 84,000 ڈالر اور ETH تقریباً 2,676 ڈالر پر تھا؛ محدود قیمت ردعمل کو پورے خطرے کے خاتمے کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ اب توجہ مکمل تحقیق، رقوم کی واپسی، متاثرہ پتوں اور اثاثوں کی بازیابی پر ہے۔ محض والیٹ منتقلی فروخت ثابت نہیں کرتی، نہ قیمت میں ہر کمی کو اس حملے سے جوڑا جاسکتا ہے۔
عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت Japanese JGB Bond Yields پر مرکوز ہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال ایک بڑی حکومتی مداخلت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( PSX) میں جمعہ کے روز کاروبار کے آغاز پر زبردست خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور مصالحت کی خبریں تھیں۔ بینچ مارک KSE100 انڈیکس میں چار سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا
توانائی کی مارکیٹس میں اس وقت غیر یقینی صورتحال جاری ہے کیونکہ ڈبلیو ٹی آئی کروڈ آئل (WTI Crude Oil) کی قیمتیں 92 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گئی ہیں۔ ایشیائی سیشن کے دوران اس کمی نے تیل کی دو روزہ مسلسل تیزی کے تسلسل کو توڑ دیا ہے
مشہور ایکسچینج Bitget ہیک کر لی گئی جس کے بعد نامعلوم سائبر حملہ آوروں نے 350 ملیئن ڈالرز سے زائد کے فنڈز نامعلوم ایڈریسز پر منتقل کر دیئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی آئندہ میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کر سکتی ہے۔ اگست میں افراط زر 11.10% پر آ گیا ہے، جو موجودہ پالیسی ریٹ 11.50% سے کم ہے، جس سے حقیقی شرح سود مثبت ہو گئی ہے۔ یہ صورتحال معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کی راہ ہموار کرتی ہے۔