فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سونے کی چال کو سست کر دیا ہے
"decision on imf staff level agreement likely today" کے لیے 1153 نتائج۔
فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سونے کی چال کو سست کر دیا ہے
موجودہ حالات میں UAE Energy Exports Security کا معاملہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج اختتامی سیشن کے دوران شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی اور فروخت کے دباؤ کی وجہ سے PSX KSE100 Index میں تقریباً 1 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
Huawei نے سوموار کو اپنے نئے فلیگ شپ فولڈ ایبل اسمارٹ فون سیریز کو باضابطہ طور پر لانچ کر دیا ہے، جو کہ چینی مارکیٹ میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی ایک زبردست کوشش ہے۔
ایک زمانے میں ایتھریم (Ethereum) کا طاقتور حریف سمجھا جانے والا نیٹ ورک، ہارمونی (Harmony Blockchain)، اپنے نیٹ ورک کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں جب بھی حکومتیں یا ریاستی ادارے بڑے پیمانے پر اشیاء کی درآمد و برآمد کے فیصلے کرتے ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست کموڈیٹی مارکیٹس (Commodity Markets) پر مرتب ہوتے ہیں
PSX میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس تک گر گیا۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مقامی اور بین الاقوامی عوامل بیک وقت مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستانی روپے (PKR) میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جو 277.60 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ رجحان درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی طلب میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ پچھلی 276.50 کی سطح اب اہم سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ نئی مزاحمت کی سطحوں کو جانچ رہی ہے۔
KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے گرنے کے بعد ایک مثبت ریکوری کا مظاہرہ کیا ہے، جو مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، انڈیکس اب بھی اپنی اوپننگ سے نیچے ہے، اور وسیع تر مارکیٹ کی شرکت کے بغیر پائیدار رجحان کی تصدیق مشکل ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں