عالمی مارکیٹس میں اس وقت ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جہاں سرمایہ کاروں نے یورو کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی Short Positions لے رکھی ہیں
"gold price forecast us iran ceasefire doubts keep xau usd under pressure" کے لیے 1008 نتائج۔
عالمی مارکیٹس میں اس وقت ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جہاں سرمایہ کاروں نے یورو کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی Short Positions لے رکھی ہیں
FinCEN Crypto Wallet Reporting Rule Scrapped ہونے کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کے لیے طویل عرصے سے جاری غیر یقینی کی فضا اب ختم ہو چکی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد PSX Market Recovery کا عمل شروع ہو چکا ہے، جہاں بینچ مارک KSE100 انڈیکس نے سیشن کے ابتدائی منٹوں میں شاندار واپسی کرتے ہوئے 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
ایشیائی اسٹاکس (Asian Stocks) نے وال اسٹریٹ (Wall Street) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مثبت رجحان کا مظاہرہ کیا ہے۔ نیس ڈیک (Nasdaq) کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہونے والی تکنیکی ریلی (Tech-Fuelled Rally) نے ایشیائی اسٹاک مارکیٹس کو سہارا دیا ہے
اکتوبر میں آسٹریلیا کا کنزیومر سینٹیمنٹ انڈیکس 4.7 فیصد گر گیا، جو کہ مسلسل دوسری ماہانہ گراوٹ ہے۔ اس کے باوجود، AUDUSD کا جوڑا 0.6970 کے قریب ایک تنگ دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے، جو کہ مارکیٹ کی لچک اور دیگر کثیر جہتی عوامل کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔ برینٹ خام تیل 102.85 ڈالر پر مضبوط ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 90.65 ڈالر تک گر گیا ہے، جس سے دونوں کا فرق 12.20 ڈالر ہو گیا ہے۔
عالمی انرجی مارکیٹس میں آج اس وقت ایک اہم موڑ دیکھا گیا جب Crude Oil Prices میں Middle East Crisis کے تناظر میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر شینیچی اوچیڈا نے ایک اہم بیان میں انکشاف کیا ہے کہ BOJ AI Monetary Policy کے فیصلوں میں اب ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
آسٹریلین ڈالر نے امریکی لیبر مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار کے بعد ایشیائی سیشن کے آغاز میں مثبت رجحان دکھاتے ہوئے 0.6950 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اس وقت مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح امریکہ اور آسٹریلیا کے معاشی اشاریے AUDUSD کو متاثر کر رہے ہیں۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں فوجی اضافے کی اطلاعات کے بعد، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک انتہائی اتار چڑھاؤ والا کاروباری ہفتہ دیکھنے میں آیا
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں