پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
"decline continues in pakistani rupees where as gold prices also reached on ever high level" کے لیے 1167 نتائج۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% CPI افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے دور میں قائم ہے۔ انٹربینک مارکیٹ میں USD/PKR 0.33% کی بہتری کے ساتھ 276.82 پر بند ہوا، جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,155 پوائنٹس پر معاشی استحکام کی عکاسی کر رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کا سیشن بریک آؤٹ کی ناکامی پر ختم ہوا۔ KSE-100 انڈیکس انٹرا ڈے ہائی 172,756 سے گر کر 168,155 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے تکنیکی ساخت میں واضح مندی کے اشارے مل رہے ہیں۔
XAU/USD تقریباً 4,182.7 پر ہے۔ H1 پر 4,156–4,160 فوری سپورٹ کے طور پر اہم ہے۔ 4,133–4,135 کے قریب اگلی اہم سپورٹ نظر آتی ہے۔ اوپر کی جانب 4,204–4,212 ابتدائی ریزسٹینس ہے۔ اس کے بعد 4,228–4,252 کا زون اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ D1 RSI تقریباً 41.11 ہے، جبکہ H4 RSI 49.34 اور H1 RSI 54.66 ہے۔ H1 مومینٹم میں بہتری ہے، لیکن D1 چارٹ ابھی واضح بُلش ریورسل کی تصدیق نہیں کرتا۔ 4,200 کے اوپر مستقل قیمت برقرار رہنا مزید ریکوری کے لیے اہم ہوگا۔ 4,156 کے نیچے کمزوری اور پھر 4,133 کے نیچے بریک ڈاؤن مزید دباؤ کی علامت ہوسکتا ہے۔
برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
EUR/USD 1.12700 پر -0.18% گرا، جبکہ DXY 101.84 پر -0.25% کم ہوا۔ USD کی کمزوریت کے باوجود یورپی کرنسی کی کمی نے پہلے کی اپ‑ٹرن تھیسس کو بدل دیا۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
آج EURUSD کی محدود رینج اس بات کا احاطہ کر رہی ہے کہ کس طرح امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ اور افراط زر کے اعداد و شمار اس اہم کرنسی جوڑے کی اگلی سمت کا تعین کر رہے ہیں
Ethereum نے $2,727 کی نئی بلند ترین سطح عبور کی ہے، جس سے پچھلے دن کی رینج‑بریک آؤٹ کی توثیق اور اوپر کی سمت کی توقع پیدا ہوتی ہے۔
عالمی صرافہ مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ $4180.88 کی سطح پر معمولی اضافے کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ امریکی 10 سالہ حقیقی ییلڈ اور ڈالر انڈیکس قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
EUR/USD نے 1.12700 پر 0.27% اضافہ دکھایا۔ دن کی حد 1.12700–1.13403 ہے اور DXY 101.93 پر مستحکم ہے۔ یہ مضمون تکنیکی اور بنیادی عوامل کی تفصیل پیش کرتا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں