پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کا سیشن بریک آؤٹ کی ناکامی پر ختم ہوا۔ KSE-100 انڈیکس انٹرا ڈے ہائی 172,756 سے گر کر 168,155 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے تکنیکی ساخت میں واضح مندی کے اشارے مل رہے ہیں۔
"mixed closing of the day in us stocks" کے لیے 1170 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کا سیشن بریک آؤٹ کی ناکامی پر ختم ہوا۔ KSE-100 انڈیکس انٹرا ڈے ہائی 172,756 سے گر کر 168,155 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے تکنیکی ساخت میں واضح مندی کے اشارے مل رہے ہیں۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت (Pakistan Petroleum Sales September 2026) میں ستمبر 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر (YoY) 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد کُل فروخت 1.35 ملین ٹن پر آگئی ہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
بٹ کوائن (BTC/USD) نے 2.22 فیصد اضافے کے بعد 85,940 ڈالر پر پوزیشن سنبھال لی ہے۔ کنسولیڈیشن زون کے بریک آؤٹ اور 86,752 ڈالر کے یومیہ ہائی کے بعد ادارہ جاتی ڈیمانڈ اور ہالوِنگ سپلائی ڈائنامکس کا جائزہ۔
جمعہ کے روز ٹریڈنگ کے آغاز میں ہی بینچ مارک انڈیکس میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جس نے طویل مدتی سرمایہ کاروں اور ڈے ٹریڈرز دونوں کو ایک بار پھر محتاط ہونے پر مجبور کر دیا۔
گذشتہ رات Houthis Attack on Madina Al Munawara کے واقعے میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے پاور اسٹیشن اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
آج ایشیئن سیشنز میں آسٹریلوی ڈالر (Australian Dollar) دباؤ کا شکار ہے اور AUDUSD مسلسل چوتھے روز گراوٹ کے بعد 0.6928 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے
USD/PKR کی کمی، DXY کا اضافہ اور US 10Y کی کمی نے سونے کی قیمت کو 440,400 روپے فی تولہ پر 0.14% نیچے لے آیا۔ تجزیہ میں عالمی ڈالر کی قوت اور بانڈ ییلڈ کی تبدیلیوں کو بنیادی محرک سمجھا گیا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں