پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) 6 فیصد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
"audusd recovered near psychological level after chinese and australian financial data" کے لیے 881 نتائج۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) 6 فیصد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کا سیشن بریک آؤٹ کی ناکامی پر ختم ہوا۔ KSE-100 انڈیکس انٹرا ڈے ہائی 172,756 سے گر کر 168,155 پوائنٹس پر بند ہوا، جس سے تکنیکی ساخت میں واضح مندی کے اشارے مل رہے ہیں۔
برطانوی پاؤنڈ (GBP/USD) سیشن کے دوران 0.37% کی کمی کے ساتھ 1.32078 کی سطح پر معامله ہو رہا ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور فیڈ کی پالیسیوں کا تفاوت اور امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی فاریکس مارکیٹ میں نیا موڑ لا رہے ہیں۔
XAU/USD تقریباً 4,182.7 پر ہے۔ H1 پر 4,156–4,160 فوری سپورٹ کے طور پر اہم ہے۔ 4,133–4,135 کے قریب اگلی اہم سپورٹ نظر آتی ہے۔ اوپر کی جانب 4,204–4,212 ابتدائی ریزسٹینس ہے۔ اس کے بعد 4,228–4,252 کا زون اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ D1 RSI تقریباً 41.11 ہے، جبکہ H4 RSI 49.34 اور H1 RSI 54.66 ہے۔ H1 مومینٹم میں بہتری ہے، لیکن D1 چارٹ ابھی واضح بُلش ریورسل کی تصدیق نہیں کرتا۔ 4,200 کے اوپر مستقل قیمت برقرار رہنا مزید ریکوری کے لیے اہم ہوگا۔ 4,156 کے نیچے کمزوری اور پھر 4,133 کے نیچے بریک ڈاؤن مزید دباؤ کی علامت ہوسکتا ہے۔
USD/PKR دستیاب مارکیٹ ڈیٹا میں 277.05 رہا؛ حتمی انٹربینک اختتامی نرخ کی الگ تصدیق ضروری ہے۔ عالمی ڈالر کی مضبوطی اور روپے کی محدود بہتری ایک ساتھ ممکن ہیں، کیونکہ دونوں کے محرکات مکمل طور پر یکساں نہیں۔ امریکی بانڈ ییلڈز فاریکس مارکیٹ کے لیے اہم ہیں، مگر ان میں ہر اضافہ لازماً ڈالر میں تیزی یا رسک آف ماحول کی تصدیق نہیں کرتا۔ یورو زون میں بلند مہنگائی کے ساتھ فرانس کے مالیاتی خطرات بھی EUR/USD پر اثر ڈال رہے ہیں۔ امریکی روزگار کی رپورٹ کے بعد ڈالر، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات میں تبدیلی اگلا اہم محرک ہوگی۔
یورو زون کی سالانہ مہنگائی اگست کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.8 فیصد ہوگئی؛ مارکیٹ توقع 3.6 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی (Core Inflation) 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہوئی۔ ECB کی ڈپازٹ شرح 2.50 فیصد ہے؛ تازہ اعداد مزید اضافے کی دلیل دیتے ہیں، لیکن اگلے فیصلے کا وقت طے نہیں کرتے۔ فرانس اور جرمنی کے 10 سالہ بانڈ ییلڈز کا فرق تقریباً 150 بیسس پوائنٹس تک پہنچنے سے یورو زون کے مالیاتی خطرات نمایاں ہوئے۔ امریکی روزگار کی رپورٹ، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات EUR/USD کی اگلی حرکت کے لیے اہم ہیں۔
برینٹ (Brent Crude Oil) 2.77 فیصد کم ہوکر 99.48 ڈالر، جبکہ WTI 3.61 فیصد گر کر 89.52 ڈالر فی بیرل رہا۔ فرانسیسی تجویز میں یورپی ممالک سے 50 ملین بیرل ڈیزل اور عالمی توانائی ایجنسی کے ارکان سے مزید 50 ملین بیرل خام تیل جاری کرنے کی بات شامل ہے۔ یورپی گیس آئل فیوچرز 5 فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً 1,377 ڈالر فی میٹرک ٹن تک آئے۔ مذاکرات میں امریکا کی جانب سے یکطرفہ ڈیزل برآمدی پابندی نہ لگانے کی یقین دہانی بھی اہم معاملہ ہے۔ مجوزہ حجم کے ساتھ منظوری، ترسیل کا شیڈول اور ریفائنڈ ایندھن کی حقیقی دستیابی اگلا فیصلہ کن مرحلہ ہوں گے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
24 قیراط سونا 2,000 روپے اضافے سے 440,636 روپے فی تولہ ہوگیا۔ 10 گرام سونا 377,774 روپے، جبکہ چاندی 50 روپے بڑھ کر 6,578 روپے فی تولہ رہی۔ مقامی نرخ کے ساتھ رپورٹ کردہ عالمی حوالہ 20 ڈالر بڑھ کر 4,181 ڈالر فی اونس ہوگیا۔ جمعہ کی تیزی نے جمعرات کی کمی کا تقریباً دو تہائی حصہ واپس لیا؛ دونوں سیشنز کی مجموعی تبدیلی اب بھی 1,000 روپے منفی ہے۔ پیر سے جمعہ تک جاری کردہ فی تولہ نرخ 437,336 سے 441,636 روپے کی پرائس رینج میں رہے۔
گذشتہ رات Houthis Attack on Madina Al Munawara کے واقعے میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے پاور اسٹیشن اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے ایک بار پھر عالمی سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
وال اسٹریٹ میں Mag-7 ٹیکنالوجی دیو کی پیش قدمی جاری ہے۔ اینویڈیا اور ایپل کے ریکارڈز کے باعث انڈیکس تیزی کی نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے جبکہ مالیاتی سیکٹر پیچھے رہ گیا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں