Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"pakistan stock exchange declined after global economic prospectus report" کے لیے 848 نتائج۔

Gold Price Analysis: XAU/USD میں گراوٹ کا خطرہ، $4,400 اہم Support Level
Gold Price Analysis: XAU/USD میں گراوٹ کا خطرہ، $4,400 اہم Support Level

Gold Price اس وقت $4,400 کے قریب pressure میں trade کر رہا ہے۔ Fed Rate Hike Expectations اور Treasury Yields میں اضافہ Gold پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ Geopolitical Risks اور کمزور US Dollar اسے Support دے رہے ہیں۔ $4,400 اہم Support ہے۔ اس کے نیچے Break ہونے کی صورت میں $4,300 اگلا Target بن سکتا ہے۔ دوسری طرف $4,500 سے $4,530 کے اوپر Recovery Gold کے Bullish Outlook کو مضبوط کر سکتی ہے۔ Traders کی توجہ US Inflation Data، Federal Reserve Policy، US Dollar اور Treasury Yields پر رہے گی۔

نور فاطمہ ·
EUR/USD تجزیہ: 1.1600 سپورٹ برقرار، ECB اور US CPI سے اگلی سمت کا فیصلہ
EUR/USD تجزیہ: 1.1600 سپورٹ برقرار، ECB اور US CPI سے اگلی سمت کا فیصلہ

1.1600EUR/USD کے اہم support کے قریب مستحکم ہے۔ مضبوط US jobs data کے باوجود US Dollar اپنی gains کو مکمل طور پر برقرار نہیں رکھ سکا۔ ECB کی آنے والی policy decision اور US CPI data اس ہفتے pair کی اگلی direction کے لیے اہم ہوں گے۔ 1.1600 کے اوپر رہنے کی صورت میں EUR/USD کے لیے 1.1650 اور 1.1700 اہم levels ہیں۔ 1.1700 کے اوپر breakout مزید bullish momentum پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف 1.1600 سے نیچے sustained break ہونے کی صورت میں 1.1575 اور 1.1545 اگلے downside levels بن سکتے ہیں۔

نور فاطمہ ·
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی: انٹربینک ریٹ 277.62 پر
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی: انٹربینک ریٹ 277.62 پر

پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔

سید جواد ·
USD/JPY تجزیہ: BoJ کی شرح سود میں اضافے کی توقعات سے ین مضبوط
USD/JPY تجزیہ: BoJ کی شرح سود میں اضافے کی توقعات سے ین مضبوط

USD/JPY میں Selling Pressure برقرار ہے۔ BoJ کی Rate Hike Expectations سے Japanese Yen مضبوط ہو رہا ہے۔ Carry Trade Unwinding بھی Yen کو Support دے رہی ہے۔ 160.00 کے قریب Japanese Intervention Risk اہم ہے۔ دوسری طرف مضبوط US Jobs Data اوDollar Fed Rate Expectations کو Support دے رہی ہیں۔ US CPI Data اگلی بڑی Market Move کے لیے اہم ہوگا۔ 155.00 اہم Support ہے، جبکہ 157.50 Key Resistance ہے۔ 155.00 کے نیچے Pair 154.00 اور 153.50 کی طرف جا سکتا ہے۔ 157.50 کے اوپر Breakout کی صورت میں 159.00 اور 160.00 کی طرف Recovery ممکن ہے۔ مجموعی طور پر USD/JPY کا Short Term Bias Cautiously Bearish ہے۔

نور فاطمہ ·
ڈالر ریٹ آج: پاکستانی روپے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید گراوٹ، 277.60 پر ٹریڈ
ڈالر ریٹ آج: پاکستانی روپے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید گراوٹ، 277.60 پر ٹریڈ

پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔

سید جواد ·
ناروے کے 2.3 ٹریلین ڈالر کے خودمختار فنڈ کی نئی بانڈ حکمتِ عملی: امریکی سرکاری قرض میں 80 ارب ڈالر کی ممکنہ کٹوتی، لیکن ڈالر سے انخلا نہیں
ناروے کے 2.3 ٹریلین ڈالر کے خودمختار فنڈ کی نئی بانڈ حکمتِ عملی: امریکی سرکاری قرض میں 80 ارب ڈالر کی ممکنہ کٹوتی، لیکن ڈالر سے انخلا نہیں

بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
Novartis اور Ionis کی pelacarsen قلبی آزمائش ناکام، Ionis کے حصص 12 فیصد گر گئے
Novartis اور Ionis کی pelacarsen قلبی آزمائش ناکام، Ionis کے حصص 12 فیصد گر گئے

Novartis اور Ionis کی پیلکارسن (Pelacarsen) نامی تجرباتی دوا بڑے تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں قلبی واقعات کم کرنے کا بنیادی ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ دوا نے Lp(a) کی سطح واضح طور پر کم کی، مگر اس حیاتیاتی بہتری سے دل کے دورے، فالج، قلبی موت یا فوری خون رسانی کے طریقۂ علاج کی ضرورت میں مطلوبہ کمی ثابت نہیں ہوئی۔ خبر کے بعد Ionis کے حصص تقریباً 12 فیصد اور اسی شعبے میں دوا تیار کرنے والی Amgen کے حصص تقریباً 5 فیصد نیچے آئے۔ مکمل مطالعہ ابھی شائع نہیں ہوا اور تفصیلی نتائج ایک آئندہ طبی کانفرنس میں پیش کیے جائیں گے، اس لیے ناکامی کی مکمل سائنسی تشریح ابھی باقی ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ pelacarsen کی ناکامی صرف اس مخصوص دوا سے متعلق ہے یا Lp(a) کو نشانہ بنانے والی دوسری زیرِ تیاری ادویات کے لیے بھی خطرے کا اشارہ ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
عالمی غذائی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، FAO نے رسد کے خطرات سے خبردار کر دیا
عالمی غذائی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، FAO نے رسد کے خطرات سے خبردار کر دیا

FAO کا عالمی غذائی قیمت اشاریہ اگست میں 1.9 فیصد بڑھ کر 133.3 پوائنٹس ہوگیا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ تمام پانچ بڑی غذائی اقسام کی قیمتیں بڑھیں، جبکہ چینی کا اشاریہ ایک ماہ میں 11.9 فیصد بڑھا۔ عالمی اناج قیمتیں 2.2 فیصد بڑھیں اور FAO نے 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ بھی کم کر دیا ہے۔ موسمی خطرات، بحیرہ اسود میں رسدی رکاوٹیں اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث زرعی خام مال اور کھاد کی ترسیل پر دباؤ اہم محرکات میں شامل ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ اضافہ چند ماہ کی رسدی بے ترتیبی تک محدود رہتا ہے یا عالمی افراطِ زر میں دوبارہ پائیدار غذائی دباؤ پیدا کرتا ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد چاہتے ہیں
امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کا جوہری معاملہ سلامتی کونسل بھیجنے کے لیے IAEA قرارداد چاہتے ہیں

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی IAEA کے آئندہ اجلاس میں ایران کے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک بھیجنے والی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ رائٹرز کی جانب سے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق قرارداد IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے موجودہ اور سابقہ قراردادیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ مجوزہ قرارداد ابھی باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوئی، اس لیے ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کیا جانا ابھی منظور شدہ فیصلہ نہیں۔ IAEA کے مطابق ایران نے بمباری سے متاثرہ تنصیبات تک مکمل رسائی بحال نہیں کی اور ایجنسی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی موجودہ مقدار کی تصدیق نہیں کر پا رہی۔ اگر قرارداد منظور ہوتی ہے تو یہ تقریباً 20 سال بعد ایران کے جوہری معاملے کو IAEA بورڈ سے سلامتی کونسل تک لے جانے کی ایک بڑی سفارتی کشیدگی ہوگی۔

محمد اظہر سلیم ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں