پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز ایک انتہائی اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن دیکھنے میں آیا، جہاں KSE100 انڈیکس نے ابتدا میں شاندار تیزی دکھائی، لیکن اختتامی سیشن میں شدید فروخت اور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث مارکیٹ تقریباً فلیٹ بند ہوئی۔
"eur usd analysis iran ceasefire tensions and hawkish fed keep pair near 1 1660" کے لیے 1003 نتائج۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز ایک انتہائی اتار چڑھاؤ سے بھرپور سیشن دیکھنے میں آیا، جہاں KSE100 انڈیکس نے ابتدا میں شاندار تیزی دکھائی، لیکن اختتامی سیشن میں شدید فروخت اور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث مارکیٹ تقریباً فلیٹ بند ہوئی۔
تبدیلی کے مرکز میں دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی Nvidia موجود ہے، جس نے حالیہ معاشی پیش رفت میں ایک ایسا ہدف پیش کیا ہے جس نے Wall Street اور عالمی سرمایہ کاروں کو خاصی توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج ابتدائی سیشن کے دوران زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری کے نتیجے میں PSX میں تیزی کی ریلی شروع ہوئی
کرپٹو انڈسٹری میں اس وقت ایک انتہائی دلچسپ اور متحرک صورتحال بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف مارکیٹ تجزیہ نگاروں کے مطابق Bitcoin نے اپنی گزشتہ ہفتے کی 23 فیصد کی شاندار کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے $78,000 کی سطح پر مضبوطی دکھائی ہے
آج KSE-100 انڈیکس 177,371 پوائنٹس پر بند ہوا، 0.23% کے معمولی اضافے کے ساتھ۔ یہ گہرائی سے جائزہ تکنیکی اور بنیادی عوامل کا احاطہ کرتا ہے۔
آسٹریلوی محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، جولائی میں سالانہ بنیادوں پر Australian CPI Inflation کم ہوکر 3.5 فیصد پر آگئی، جبکہ جون میں یہ شرح 3.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
جب قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے اوپر جانا شروع کرتی ہیں تو عام آدمی سے لے کر کاروباری اور مالیاتی شعبے تک ہر سطح پر تشویش بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں CPI Inflation ایک بار پھر دوہرے ہندسے میں داخل ہونے کے قریب ہے۔
رواں ہفتے امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں اور اس کے جواب میں ایرانی حکومت کے سخت ردعمل اور انتقامی کارروائی کے عزم نے عالمی مارکیٹس میں ایک بار پھر بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اس نوعیت کے بحران سرمایہ کاروں کے لیے بڑے خطرات ضرور پیدا کرتے ہیں
KSE-100 انڈیکس 176,967 پوائنٹس پر -0.11% کی معمولی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا، جبکہ سرمایہ کار مستقبل کی سمت کے لیے تکنیکی اور بنیادی عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے تجارتی شراکت داروں اور معاشی روابط کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی نے مارکیٹ میں یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ موجودہ کشیدگی محض سیاسی تنازع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عالمی معیشت اور تجارت کے لیے بھی بڑے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
امریکہ نے ہفتے کے روز کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک کے ٹیرف نافذ کیے، جبکہ جمعہ کو تجارتی مذاکرات آخری مرحلے میں ناکام ہو گئے۔
آج KSE-100 انڈیکس 177,167 پوائنٹس پر مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار مرکزی بینک کی پالیسیوں اور آئندہ معاشی اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں