بدھ کے روز آسٹریلوی ڈالر میں 0.29 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔ جس کے بعد یہ جوڑا 0.6963 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
"education index" کے لیے 280 نتائج۔
بدھ کے روز آسٹریلوی ڈالر میں 0.29 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی۔ جس کے بعد یہ جوڑا 0.6963 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
عالمی مارکیٹس میں حالیہ سیشنز کے دوران زبردست اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ سونے کی قیمت جو کہ کچھ ہی روز قبل بلند ترین سطح پر تھی، اب تیزی سے واپس آتے ہوئے دو ماہ کی کم ترین سطح یعنی $4,104 کے قریب پہنچ چکی ہے۔
گورنمنٹ سیکورٹیز اور سیاسی بے یقینی کے باعث فنانشل مارکیٹس میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ فرینچ بانڈز کی فروخت اور Euro کا یہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فرانسیسی حکومتی بانڈز کی فروخت میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میںEuro پر شدید دباؤ آ گیا۔
عالمی مارکیٹس میں اس وقت ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے جہاں سرمایہ کاروں نے یورو کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی Short Positions لے رکھی ہیں
فرانس میں حالیہ دنوں میں پھوٹ پڑنے والے تاریخ ساز اسکول طلبہ و طالبات کے احتجاج اور پرتشدد مظاہروں نے نہ صرف اندرونی سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ اس کے گہرے اثرات اب عالمی مارکیٹس پر بھی نمایاں ہو چکے ہیں
امریکی ڈالر کے مقابلے میں جاپانی ین (Japanese Yen) نے اس وقت قدرے سنبھلنے کی کوشش کی جب بینک آف جاپان (Bank of Japan) کی جانب سے شرح سود (Interest Rate) میں اضافے کی توقعات مدہم پڑ گئیں۔ USDJPY ایشیائی سیشن کے آغاز میں 158.35 کے قریب مضبوطی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں روزگار کے اعداد و شمار (Employment Data) کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ حالیہ دنوں میں جاری ہونے والی US ADP Employment Revised کی رپورٹ نے سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی ہے۔
اکتوبر میں آسٹریلیا کا کنزیومر سینٹیمنٹ انڈیکس 4.7 فیصد گر گیا، جو کہ مسلسل دوسری ماہانہ گراوٹ ہے۔ اس کے باوجود، AUDUSD کا جوڑا 0.6970 کے قریب ایک تنگ دائرے میں ٹریڈ کر رہا ہے، جو کہ مارکیٹ کی لچک اور دیگر کثیر جہتی عوامل کی عکاسی کرتا ہے۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ستمبر کے مہینے میں US ISM Services PMI توقعات سے کم ہو کر 54.9 پر آ گیا ہے، جو کہ پچھلے مہینے (اگست) میں 55.4 تھا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج کے پورے سیشن کے دوران شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجوہات بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور ملک کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی شورش تھیں ۔ اس دباؤ کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 2,300 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں KSE-100 انڈیکس 168,155 کی سطح پر 0.40 فیصد کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔ نتائج کے سیزن کے قریب بینکنگ، ای اینڈ پی، سیمنٹ اور دیگر 6 اہم سیکٹرز کا جامع بنیادی اور تکنیکی تجزیہ۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں