KSE‑100 نے 28 ستمبر 2026 کو 170,426 پوائنٹس پر بند ہو کر منفی 0.15% کی تبدیلی دکھائی۔ یہ قیمت پچھلے سیشن کی اوپر کی سمت کے اشارے کو رد کرتی ہے اور مارکیٹ کے رینج‑باؤنڈ مگر نیچے کی جھکاؤ کے رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
"یورپی اسٹاکس میں دوران ٹریڈ ملا جلا رجح" کے لیے 1172 نتائج۔
KSE‑100 نے 28 ستمبر 2026 کو 170,426 پوائنٹس پر بند ہو کر منفی 0.15% کی تبدیلی دکھائی۔ یہ قیمت پچھلے سیشن کی اوپر کی سمت کے اشارے کو رد کرتی ہے اور مارکیٹ کے رینج‑باؤنڈ مگر نیچے کی جھکاؤ کے رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
SBP، Fed، ECB اور دیگر مرکزی بینکوں کے تازہ بیانات کے ساتھ ساتھ امریکی روزگار ڈیٹا نے ڈالر کو مضبوط کیا، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی کمی آئی۔
سونا (XAU/USD) ایشیائی تجارت میں 2.1 فیصد گر کر 4,198.10 ڈالر فی اونس آگیا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 2.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,231 ڈالر پر رہے۔ چاندی (XAG/USD) کی کمی بڑھ کر 3.4 فیصد ہوگئی اور قیمت 62.08 ڈالر فی اونس رہی؛ پلاٹینم اور پیلیڈیم بھی دباؤ میں آئے، اس لیے فروخت صرف سونے تک محدود نہیں۔ اکتوبر میں Fed کی شرح سود بڑھانے کا مارکیٹ امکان تقریباً 68 فیصد تک پہنچ گیا؛ ستمبر کے اضافے کے بعد امریکی پالیسی شرح پہلے ہی 3.75 سے 4.00 فیصد ہے۔ برینٹ خام تیل (Brent Crude) 106 ڈالر سے اوپر اور ڈالر انڈیکس (DXY) دو ماہ کی بلند سطح کے قریب رہا، جبکہ بلند امریکی بانڈ منافع نے دھاتوں کی کشش محدود رکھی۔ سونے کے لیے اب 4,200 ڈالر کی واپسی اہم ہے۔ 30 ستمبر کے امریکی PCE اور 2 اکتوبر کے روزگار کے اعداد شرح سود کی توقعات بدل سکتے ہیں، جبکہ 4,250 سے 4,300 ڈالر کی بحالی فروخت کا دباؤ کم ہونے کا اشارہ ہوگی۔
US 10Y ییلڈ 5.184% پر مستحکم رہتے ہوئے 2 سالہ ییلڈ کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان واضح ہو رہا ہے۔
پاکستان میں USDT P2P اور انٹربینک USD/PKR ریٹ کے درمیان فرق 0.02% کے اپس پاس آ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اقدامات اور ڈجیٹل اثاثوں کی مارکیٹ پر تفصیلی تحلیلی رپورٹ۔
عالمی سرکاری بانڈ مارکیٹ میں بیئر اسٹیپننگ کا رجحان برقرار ہے، جہاں US 10Y ییلڈ 5.184% تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی مالیاتی خسارے اور ٹریژری کی جانب سے بھاری سپلائی نے طویل المدتی شرح سود پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔
چاندی کی قیمت آج کے سیشن میں امریکی ڈالر کی کمی اور صنعتی طلب کے دباؤ کے باعث مستحکم رہی۔ تاہم COMEX پر بڑھتی ہوئی بائیک پوزیشن اور گولڈ‑سِلور ریشیو کی اوور بائی‑سائڈ سطحیں آئندہ کے لیے خطرے کا اشارہ دیتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں پاکستان اور ترکی کا سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل اظہارِ یکجہتی اور مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔
پاکستان کی معیشت میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات اور متوازن بیرونی کھاتوں کے باعث استحکام آ رہا ہے۔ افراطِ زر میں کمی کے بعد مرکزی بینک کی طرف سے شرح سود میں مزید نرمی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
AUD/USD اس وقت 0.70104 کے قریب تجارت کر رہا ہے۔ آسٹریلیا میں اگست کے دوران روزگار میں 39.5 ہزار کا اضافہ ہوا۔ تاہم بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 4.6 فیصد ہوگئی۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بلند امریکی بانڈز کی شرح منافع بھی AUD/USD پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ مارکیٹ کی توجہ اب 29 ستمبر کی RBA میٹنگ پر ہے۔ تکنیکی طور پر 0.7000 اہم سپورٹ ہے۔ اس کے نیچے 0.6984، 0.6970 اور 0.6940 اہم سپورٹ سطحیں ہیں۔ اوپر کی جانب 0.7053، 0.7075، 0.7097 اور 0.7120 اہم مزاحمتی سطحیں ہیں
پاکستان کے انرجی سیکٹر میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب ملک کی تین بڑی ریفائنریز Cnergyico Pk، Attock Refinery Limited (ARL)، اور National Refinery Limited (NRL) نے سرکاری ادارے Inter State Gas Systems (ISGS) کے ساتھ باضابطہ معاہدوں پر دستخط کیے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ سست روی کے باوجود، بینکاری، توانائی (E&P)، سیمنٹ، بجلی، کھاد اور ٹیکنالوجی کے اہم سیکٹرز میں بنیادی عوامل اور آئندہ نتائج کے سیزن کے پیش نظر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ تاہم، غیر ملکی اور مقامی اداروں کی جانب سے محتاط پوزیشننگ دیکھی جا رہی ہے، جو مارکیٹ کے مجموعی رجحان پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں