اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
"eurusd declined after us nfp report released" کے لیے 934 نتائج۔
اگست کی تجارتی رپورٹ Chinese Trade Balance نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ چینی معیشت عالمی سپلائی چین (Supply Chain) میں کتنی گہری جڑیں رکھتی ہے۔
نئی تاریخی بلند سطح: لندن میٹل ایکسچینج (LME) پر تانبا 14,533 ڈالر فی میٹرک ٹن کی نئی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو گیا، جس نے جنوری کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ذخائر کا جغرافیائی تضاد: امریکہ میں تانبے کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ چین (SHFE) اور لندن کے گوداموں میں فوری دستیاب دھات نایاب ہو رہی ہے۔ شنگھائی میں 85 فیصد کمی: چین میں شنگھائی فیوچرز ایکسچینج کے زیرِ نگرانی ذخائر مارچ کے وسط کی بلند سطح سے گر کر صرف 63,000 ٹن رہ گئے ہیں، جو جنوری 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ امریکی ٹیرف کا اثر: متوقع امریکی تجارتی محصولات اور قیمتوں کے فرق نے عالمی تانبے کے بہاؤ کا رخ زبردستی امریکی گوداموں کی طرف موڑ دیا ہے۔ فوری رسد کا خطرہ: اگر LME سے دھات کا اخراج جاری رہا اور چین میں سپلائی بحال نہ ہوئی، تو مجموعی عالمی پیداوار کے باوجود فزیکل مارکیٹ میں شدید تنگی برقرار رہے گی۔
فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات اور مشرق وسطیٰ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سونے کی چال کو سست کر دیا ہے
موجودہ حالات میں UAE Energy Exports Security کا معاملہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں Bitcoin اور Ethereum دونوں نے معمولی گراوٹ کا سامنا کیا ہے، لیکن اہم سپورٹ سطحوں سے اوپر رہنے اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث یہ گراوٹ محدود دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں استحکام برقرار ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں جب بھی حکومتیں یا ریاستی ادارے بڑے پیمانے پر اشیاء کی درآمد و برآمد کے فیصلے کرتے ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست کموڈیٹی مارکیٹس (Commodity Markets) پر مرتب ہوتے ہیں
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں