جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
"positive rally continues in european stocks as inestors shift their focus on us cpi report" کے لیے 1172 نتائج۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
پاکستان کی بڑی سماجی و فلاحی تنظیموں میں سے ایک، Fauji Foundation نے عسکری جنرل انشورنس میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے 51% شیئرز اور کنٹرول حاصل کر لیا ہے
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر میں کمی جاری رکھے ہوئے ہے، جو 277.70 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی روپے کی کمزوری کی بنیادی وجوہات ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں آج KSE-100 انڈیکس نے 1.05 فیصد کی نمایاں گراوٹ کے ساتھ 176,976 پوائنٹس پر بندش دی، جو 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے ہے۔ مارکیٹ کی وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کو نمایاں کیا ہے۔
WTI Oil کی قیمت مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کے باعث مضبوط ہے۔ $86.90 اہم resistance ہے، جس کے اوپر breakout کی صورت میں قیمت $87.69 اور $90 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب $84 اہم support ہے۔ اس کے نیچے break ہونے پر قیمت $82 اور $80 کی طرف جا سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں Strait of Hormuz، US oil inventories اور geopolitical developments WTI کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔
آج نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز ایران کے لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد PSX میں شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,454.99 پر اپنی 'bearish trend continuation' کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جو $4,584 کی سابقہ سپورٹ سطح کے نیچے ایک مستحکم 'daily close' کے بعد مزید مضبوط ہوئی ہے۔ $4,590 کی سطح اب ایک اہم مزاحمت کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ DXY کی مضبوطی سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید گراوٹ کا شکار ہوا، جو کہ 277.86 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سونے کی مارکیٹ رپورٹ کا خلاصہ (TL;DR): COT ڈیٹا کا وقتی مغالطہ: منگل (25 اگست) تک اوپن انٹرسٹ اور نان کمرشل لانگ پوزیشنز میں 5.3% اضافہ ہوا، لیکن یہ جمعہ کی گراوٹ سے پہلے کا منظرنامہ ہے، نہ کہ موجودہ پوزیشننگ کی عکاسی۔ گراوٹ کا اصل میکرو محرک: بدھ کے غیر متوقع PCE مہنگائی ڈیٹا اور جمعہ کو جیکسن ہول میں فیڈ کے سخت (Hawkish) بیانات نے شرحِ سود بڑھنے کے امکانات، ڈالر انڈیکس (99.71) اور شارٹ اینڈ ییلڈز کو بڑھایا۔ نتیجتاً سونا $4,698 کے ہائی سے 5% سے زائد گر کر $4,455 پر بند ہوا۔ تکنیکی نقصان: جمعہ کی اس گراوٹ سے سونے نے اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج ($4,513) کے اوپر بننے والا اہم بریک آؤٹ دوبارہ گنوا دیا ہے۔ آئندہ ہفتے کی نظر: اگلا سب سے اہم ایونٹ جمعہ 4 ستمبر کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز (NFP) رپورٹ ہے، جو فیڈ پالیسی اور سونے کے اگلے رجحان کا فیصلہ کرے گی۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,584 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے گر کر $4,454.99 پر آ گئی ہے، جو ایک واضح 'bearish trend continuation' کی نشاندہی کرتی ہے۔ $4,590 کی سطح اب ایک مضبوط مزاحمت کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ DXY کی مضبوطی سونے پر منفی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) آج انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر 277.91 پر بند ہوا۔ درآمدی ادائیگیوں کا مسلسل دباؤ اور مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب میں اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں