آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
"positive than expectations us retail sales report caused eurusd downtrend" کے لیے 941 نتائج۔
آج جاپانی ین نے اپنی تمام بڑی حریف کرنسیوں کے مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ جبکہ اس کے خلاف امریکی ڈالر یعنی USDJPY رواں سال کے کم ترین حصوں تک آ چکا ہے۔
موجودہ حالات میں UAE Energy Exports Security کا معاملہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرنے والا ایک بنیادی عنصر بن چکا ہے۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں Bitcoin اور Ethereum دونوں نے معمولی گراوٹ کا سامنا کیا ہے، لیکن اہم سپورٹ سطحوں سے اوپر رہنے اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث یہ گراوٹ محدود دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں استحکام برقرار ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں جب بھی حکومتیں یا ریاستی ادارے بڑے پیمانے پر اشیاء کی درآمد و برآمد کے فیصلے کرتے ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست کموڈیٹی مارکیٹس (Commodity Markets) پر مرتب ہوتے ہیں
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں معمولی ریکوری کی کوشش کی ہے، لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکامی اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث یہ رجحان کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں استحکام برقرار ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب مستحکم ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں