آج یورو سٹیٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے مہینے میں Eurozone Industrial Production میں 0.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی
"اقتصادی کیلنڈر پر نشانات اور اشاروں کو" کے لیے 1172 نتائج۔
آج یورو سٹیٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی کے مہینے میں Eurozone Industrial Production میں 0.1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی
کینیڈا کا Canadian CPI Inflation Indexاگست کے دوران 3.0 فیصد کی سالانہ شرح پر برقرار رہا، جس نے نہ صرف مارکیٹ کی توقعات کو پورا کیا بلکہ سرمایہ کاروں کو مستقبل کے فیصلوں کے لیے نئے زاویے بھی فراہم کیے۔
آج KSE-100 انڈیکس میں 3.82% کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں انڈیکس 167,971 پوائنٹس پر بند ہوا۔ یہ گراوٹ 170,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ سطح سے نیچے کی بندش کو ظاہر کرتی ہے، جو مارکیٹ میں ایک واضح بیئرش بریک ڈاؤن اور ڈیلیوریجنگ کے رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔
پاکستانی روپیہ (PKR) آج امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں معمولی بہتری کے ساتھ 277.59 پر بند ہوا، جو عالمی ڈالر کی مضبوطی کے باوجود مقامی طلب میں کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، بنیادی اقتصادی دباؤ اور عالمی عوامل PKR کے لیے چیلنجز برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ میں افراط زر کی سالانہ شرح (US CPI Inflation Data) اگست کے مہینے میں توقعات کے عین مطابق 3.4 فیصد پر مستحکم رہی ہے۔ امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس (US Bureau of Labor Statistics) کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ نے عالمی مارکیٹس میں پہلے سے موجود غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا
یورپی مرکزی بینک نے ستمبر کے اجلاس کے بعد توقعات کے عین مطابق ECB Monetary Policy کا اعلان کرتے ہوئے 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ہے
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ایک شدید زلزلہ خیز صورتحال دیکھنے میں آئی جب مشرق وسطی کی انتہائی کشیدہ صورتحال کی زیر سایہ PSX کا بینچ مارک انڈیکس 3,000 پوائنٹس سے زائد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس 170,000 کی اہم نفسیاتی سپورٹ سطح کو توڑتے ہوئے 168,865 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ وسیع البنیاد فروخت اور کمزور مارکیٹ breadth کے ساتھ بیئرش رجحان کے تسلسل کی تصدیق کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں Pakistan LNG کے تناظر میں، پاکستان کو قطر سے مائع قدرتی گیس ( LNG) کی نئی کھیپ موصول ہونے کی اطلاعات ہیں
PSX میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک KSE100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس تک گر گیا۔ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مقامی اور بین الاقوامی عوامل بیک وقت مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں
خسارے میں سالانہ اضافہ: مالی سال 27 کے پہلے دو ماہ (2MFY27) میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جس کے نتیجے میں تجارتی خلا میں 1.09 ارب ڈالر کا خالص اضافہ ہوا۔ درآمدات بمقابلہ برآمدات: ملکی درآمدات کی سالانہ رفتار (13%) برآمدات کی نمو (7%) کے مقابلے میں تقریباً دو گنی تیز رہی۔ اگست کی ماہانہ حقیقت: اگست کا خسارہ جولائی کے مقابلے میں 19.7 فیصد کم ہو کر 3.17 ارب ڈالر رہا، لیکن اس کی بنیادی وجہ برآمدات کا بڑھنا نہیں بلکہ درآمدات میں 17.7 فیصد اور برآمدات میں 15 فیصد کی بیک وقت ماہانہ گراوٹ تھی۔ سالانہ بگاڑ برقرار: ماہانہ ریلیف کے باوجود اگست 2026 کا تجارتی خسارہ اگست 2025 کے مقابلے میں 10.4 فیصد زائد رہا، جبکہ اگست کی سالانہ امپورٹ نمو (7.4%) ایکسپورٹ نمو (3.8%) سے دو گنی رہی۔ تیل اور روپے کا منظرنامہ: جولائی میں پیٹرولیم درآمدات میں 5.2 فیصد کی سالانہ کمی تھی، لیکن ستمبر میں خام تیل کا 92 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنا نئے خطرات لا رہا ہے۔ فی الوقت 17.12 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر روپے کو 277.41 پر مختصر مدتی استحکام فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے گر گیا ہے، جو پچھلی رینج باؤنڈ کنسولیڈیشن کو توڑ کر مارکیٹ میں مزید بیئرش دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ وسیع مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ اور کمزور ٹرن اوور مزید گراوٹ کے امکان کو تقویت دے رہا ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں