بٹ کوئن 84,620 ڈالر کے پسپائی کے بعد 85,012 ڈالر پر بحال ہوا ہے جبکہ ایتھیریم 2,696 ڈالر پر مستحکم ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں USDT 276.81 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
"state bank of pakistan increased the interest rate" کے لیے 1131 نتائج۔
بٹ کوئن 84,620 ڈالر کے پسپائی کے بعد 85,012 ڈالر پر بحال ہوا ہے جبکہ ایتھیریم 2,696 ڈالر پر مستحکم ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں USDT 276.81 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
بٹ کوئن 85,900 ڈالر کی مزاحمت عبور نہ کر سکنے کے بعد 84,620 ڈالر تک پسپا ہو گیا ہے جبکہ ایتھیریم 2,684 ڈالر پر شدید مندی ظاہر کر رہا ہے، اور مقامی مارکیٹ میں USDT کا ریٹ 276.79 روپے پر مستحکم ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں برینٹ خام تیل 102.25 ڈالر پر مستحکم ہو گیا ہے جس نے پچھلی بئریش تھیسس کو منسوخ کر دیا ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کے 91.11 ڈالر تک گرنے سے بینچ مارک سپریڈ 11.14 ڈالر تک پھیل گیا۔
ستمبر میں FAO Food Price Index ماہانہ 1.5% بڑھا؛ اگست کی نظرثانی شدہ ریڈنگ 134.0 تھی۔ اناج اور چینی میں نمایاں تیزی آئی، جبکہ نباتاتی تیل بھی مہنگے ہوئے۔ بحیرہ اسود کی شپنگ، فصلوں کے امکانات اور موسم سے متعلق خدشات اہم عوامل رہے۔ عالمی اناج کی پیداوار تاریخی اعتبار سے بلند رہنے کی توقع ہے، مگر برآمدی دستیابی پر دباؤ موجود ہے۔ عالمی قیمتوں کا مقامی خوراک کی مہنگائی میں منتقل ہونا کرنسی، درآمدی لاگت اور مقامی سپلائی پر منحصر ہوگا۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) 6 فیصد اضافے کے ساتھ 3.56 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
امریکی 10 سالہ بانڈ ییلڈ 5.237% اور ڈالر انڈیکس 102.01 پر پہنچنے سے فیڈرل ریزرو کی سخت مالیاتی پالیسی کا تسلسل ثابت ہو رہا ہے۔ افراط زر کی 3.35% سطح پر موجودگی عالمی اثاثوں کے لیے اہم خطرہ ہے۔
یورو زون کی سالانہ مہنگائی اگست کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.8 فیصد ہوگئی؛ مارکیٹ توقع 3.6 فیصد تھی۔ بنیادی مہنگائی (Core Inflation) 2.4 فیصد سے بڑھ کر 2.5 فیصد ہوئی۔ ECB کی ڈپازٹ شرح 2.50 فیصد ہے؛ تازہ اعداد مزید اضافے کی دلیل دیتے ہیں، لیکن اگلے فیصلے کا وقت طے نہیں کرتے۔ فرانس اور جرمنی کے 10 سالہ بانڈ ییلڈز کا فرق تقریباً 150 بیسس پوائنٹس تک پہنچنے سے یورو زون کے مالیاتی خطرات نمایاں ہوئے۔ امریکی روزگار کی رپورٹ، بانڈ ییلڈز اور شرح سود کی توقعات EUR/USD کی اگلی حرکت کے لیے اہم ہیں۔
یورپی یونین کے ممالک پر امریکی دباؤ کے بعد ہنگامی ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔
ڈالر انڈیکس کی 101.94 کی سطح پر مضبوطی نے عالمی رسک‑آن لہر کو کمزور کر کے مارکیٹ کو خطرہ‑آف رجیم کی طرف موڑ دیا، حالانکہ امریکی CPI 3.35% پر مستحکم رہنے سے ڈس انفلیشن کی امید برقرار ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں زبردست فروخت کے دباؤ کی زد میں آ گئی ہیں جہاں برینٹ خام تیل 3.11 فیصد کمی کے ساتھ 99.13 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 4.02 فیصد گر کر 89.14 ڈالر پر آ گیا ہے۔ سپریڈ پھیلاؤ اور پرافٹ ٹیکنگ نے مارکیٹ کے سابقہ استحکام کو ختم کر دیا ہے۔
EUR/USD 1.12700 پر -0.18% گرا، جبکہ DXY 101.84 پر -0.25% کم ہوا۔ USD کی کمزوریت کے باوجود یورپی کرنسی کی کمی نے پہلے کی اپ‑ٹرن تھیسس کو بدل دیا۔
عالمی صرافہ مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ $4180.88 کی سطح پر معمولی اضافے کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے، جبکہ امریکی 10 سالہ حقیقی ییلڈ اور ڈالر انڈیکس قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں