بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
"differences between g 20 and imf on re scheduling of loans" کے لیے 1170 نتائج۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج اختتامی سیشن کے دوران شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی اور فروخت کے دباؤ کی وجہ سے PSX KSE100 Index میں تقریباً 1 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
ایک زمانے میں ایتھریم (Ethereum) کا طاقتور حریف سمجھا جانے والا نیٹ ورک، ہارمونی (Harmony Blockchain)، اپنے نیٹ ورک کو بند کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں جب بھی حکومتیں یا ریاستی ادارے بڑے پیمانے پر اشیاء کی درآمد و برآمد کے فیصلے کرتے ہیں، تو اس کے اثرات براہ راست کموڈیٹی مارکیٹس (Commodity Markets) پر مرتب ہوتے ہیں
عالمی مارکیٹس میں جب بھی جغرافیائی سیاسی ( تنازعات شدت اختیار کرتے ہیں، تو اس کے براہ راست اثرات توانائی کے شعبے اور کموڈیٹیز کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں، US Iran conflict نے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔
ایشیائی انڈیکسز میں تیزی: جاپان کا Nikkei 225 تقریباً 2% اور جنوبی کوریا کا Kospi تقریباً 3% چڑھے، جبکہ جاپان کے علاوہ وسیع ایشیائی مارکیٹس میں بھی 0.9% اضافہ ہوا۔ امریکی روزگار کا دوہرا اثر: مضبوط US Jobs ڈیٹا نے عالمی نمو پر اعتماد بحال کیا، مگر ساتھ ہی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رکھنے کے خدشات بھی برقرار رکھے۔ توانائی بحران میں استقامت: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور برینٹ تیل کے 96 ڈالر پر پہنچنے کے باوجود ایشیائی حصص میں کسی بڑے پیمانے کی فروخت (Sell-off) کا دباؤ نہیں دیکھا گیا۔ ین اور نکیئی کا باہمی ربط: ڈالر کے مقابلے جاپانی ین کی مضبوطی کے باوجود Nikkei کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ تیزی صرف کمزور کرنسی پر نہیں بلکہ کمپنیوں کی حقیقی طلب پر قائم ہے۔ امریکی تعطیل (Labor Day): آج امریکا میں تعطیل کے باعث وال اسٹریٹ اور کیش ٹریژری مارکیٹس بند ہیں؛ اس ریلی کی حتمی عالمی توثیق منگل کو امریکی سیشن کھلنے پر ہوگی۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے گرنے کے بعد ایک مثبت ریکوری کا مظاہرہ کیا ہے، جو مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم، انڈیکس اب بھی اپنی اوپننگ سے نیچے ہے، اور وسیع تر مارکیٹ کی شرکت کے بغیر پائیدار رجحان کی تصدیق مشکل ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔
چینی کمرشل بینکوں Chinese Banks نے حال ہی میں US Treasury Bonds کی خریداری کا آغاز کیا ہے، جو کہ ان کی روایتی سرمایہ کاری کی حکمت عملی سے ایک بڑا انحراف ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں