آج جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات (Federal Statistics office) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
"iran crypto toll strait of hormuz oil tanker fees" کے لیے 1083 نتائج۔
آج جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات (Federal Statistics office) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار نے مارکیٹ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سکیورٹی کے مسائل ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران Liquid Network exploit نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیاہے
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
USD/JPY میں Selling Pressure برقرار ہے۔ BoJ کی Rate Hike Expectations سے Japanese Yen مضبوط ہو رہا ہے۔ Carry Trade Unwinding بھی Yen کو Support دے رہی ہے۔ 160.00 کے قریب Japanese Intervention Risk اہم ہے۔ دوسری طرف مضبوط US Jobs Data اوDollar Fed Rate Expectations کو Support دے رہی ہیں۔ US CPI Data اگلی بڑی Market Move کے لیے اہم ہوگا۔ 155.00 اہم Support ہے، جبکہ 157.50 Key Resistance ہے۔ 155.00 کے نیچے Pair 154.00 اور 153.50 کی طرف جا سکتا ہے۔ 157.50 کے اوپر Breakout کی صورت میں 159.00 اور 160.00 کی طرف Recovery ممکن ہے۔ مجموعی طور پر USD/JPY کا Short Term Bias Cautiously Bearish ہے۔
AUD/USD میں Australian Dollar کی سمت کئی اہم عوامل سے متاثر ہو رہی ہے۔ RBA کی interest rate توقعات اور Fed کی monetary policy مارکیٹ کے اہم عوامل ہیں۔ US CPI اور PPI جیسے inflation data سے USD کی strength متاثر ہو سکتی ہے۔ Australia کے GDP، inflation اور employment data بھی اہم ہیں۔ China کی economic growth اور iron ore demand AUD کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ Commodity prices اور global risk sentiment بھی Pair کی movement پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ Technical Analysis میں 0.7150، 0.7100 اور 0.7000 اہم Support levels ہیں جبکہ 0.7200، 0.7250 اور 0.7300 اہم Resistance levels ہیں۔ آنے والے economic data اور central bank expectations AUD/USD کی اگلی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں معمولی ریکوری کی کوشش کی ہے، لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکامی اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث یہ رجحان کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں استحکام برقرار ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) میں انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے، جو 277.60 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ رجحان درآمدی ادائیگیوں کے دباؤ، عالمی ڈالر کی مضبوطی اور مقامی طلب میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ پچھلی 276.50 کی سطح اب اہم سپورٹ کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ نئی مزاحمت کی سطحوں کو جانچ رہی ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں معمولی ریکوری کی کوشش کی، لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکامی کے باعث یہ رجحان کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ اور میکرو اکنامک دباؤ برقرار ہے۔
بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔
Revolut کو امریکہ میں قومی بینک قائم کرنے کے لیے OCC کی مشروط منظوری مل گئی ہے، جو مارچ میں دی گئی درخواست کے بعد ایک اہم قانونی پیش رفت ہے۔ کمپنی کے مطابق اگلا مرحلہ FDIC سے ڈپازٹ انشورنس، Federal Reserve سے متعلقہ منظوری اور OCC کی آخری اجازت حاصل کرنا ہے۔ مجوزہ بینک کا صدر دفتر Stamford, Connecticut میں ہوگا اور Revolut تقریباً 95 ملین ڈالر ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکی بینک چیکنگ اکاؤنٹس، قسطوں پر قرض، کریڈٹ کارڈ اور زرمبادلہ کی خدمات پیش کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جبکہ کمپنی اسٹیبل کوائن متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ یہ منظوری حتمی بینکاری لائسنس نہیں۔ 2027 میں آغاز اس بات پر منحصر ہے کہ باقی نگران شرائط اور منظوریوں کا عمل مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں