گوگل کے جدید ترین ماڈل Gemini AI نے ایک خود کارسائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران خود بخود انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور تین مختلف کمپنیوں کے سسٹمز کو کامیابی سے ہیک کر لیا
"امریکہ کی اکتوبر 2022ء کی durable goods orders رپورٹ جاری کر" کے لیے 577 نتائج۔
گوگل کے جدید ترین ماڈل Gemini AI نے ایک خود کارسائبر سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران خود بخود انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور تین مختلف کمپنیوں کے سسٹمز کو کامیابی سے ہیک کر لیا
Bitcoin نے $76,500 کی اہم مزاحمتی سطح سے اوپر ایک اچھال دکھایا ہے، جو پچھلی بیئرش کنسولیڈیشن کے بعد ایک ممکنہ ریلیف ریلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایتھیریم کی نسبتی طاقت اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ اس اچھال کو تقویت دے رہی ہے، تاہم، کمزور حجم اور میکرو عوامل کی عدم حمایت پائیداری پر سوال اٹھاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں معروف ڈیجیٹل بینکنگ پلیٹ فارم Revolut کو ایک بڑے سکیورٹی بریچ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
Global Markets اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں کو ایک نئے انرجی شاک اور ریکارڈ سطح پر پہنچنے والے سرکاری بانڈز کے منافع کا سامنا ہے۔ منگل کے روز عالمی اسٹاک مارکیٹس میں پچھلے سیشن کی مندی کا تسلسل جاری رہا، جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز نے 2007 کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔
GBP/USD نے 1.3500 کی اہم سطح کے اوپر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ UK کی جولائی کی GDP میں 0.4 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا، جو توقعات سے بہتر رہا اور Pound کو Support ملا۔ UK Bond Yields میں اضافہ بھی Sterling کے لیے مثبت ہے، جبکہ بلند Energy Prices نے Inflation کے خدشات برقرار رکھے ہیں۔ اب Market کی توجہ US CPI Data پر ہے، کیونکہ مضبوط US Inflation سے US Dollar کو Support مل سکتا ہے اور GBP/USD پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، کمزور US Inflation سے Dollar میں کمی اور GBP/USD میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ Technical طور پر 1.3500 اور 1.3475 اہم Support جبکہ 1.3550 اور 1.3600 اہم Resistance ہیں۔
Bitcoin نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں $78,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ سطح کو توڑ دیا ہے، جو کہ ڈیریویٹوز مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اوپن انٹرسٹ اور منفی فنڈنگ ریٹس کے ساتھ بیئرش رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔ Ethereum بھی کمزور کارکردگی دکھا رہا ہے جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR مستحکم ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں Bitcoin اور Ethereum نے اپنی اہم سپورٹ سطحوں کو برقرار رکھا ہے، لیکن ڈیریویٹوز مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اوپن انٹرسٹ اور فنڈنگ ریٹس میں کمی نے بیئرش دباؤ کو نمایاں کیا ہے۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR مستحکم ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، Brent $99 اور WTI $93 کی سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر OPEC+ کی جانب سے سپلائی میں ممکنہ کمی اور عالمی طلب میں بہتری کی توقعات سے منسلک ہے، جس سے مارکیٹ میں تنگی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
امریکی ہنگامی خام تیل ذخیرہ (SPR) گزشتہ ہفتے تقریباً 12 لاکھ بیرل کم ہوکر 28 کروڑ 54 لاکھ بیرل رہ گیا؛ یہ نومبر 1982 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ مارچ میں ذخیرہ تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تھا؛ اس تقابلی مقدار سے موجودہ سطح تقریباً 12 کروڑ 96 لاکھ بیرل، یعنی 31 فیصد کم بنتی ہے۔ امریکہ نے 17 کروڑ 20 لاکھ بیرل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا، جو عالمی سطح پر 40 کروڑ بیرل تیل اور تیار مصنوعات کی مربوط فراہمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔ تبادلے کے تحت حاصل کیا گیا تیل کمپنیوں کو اضافی بیرل کے ساتھ واپس کرنا ہے؛ تاہم مستقبل کی واپسی موجودہ دستیاب ذخیرے میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ Brent تقریباً 98 ڈالر کے آس پاس اور خلیجی رسد خطرات کی زد میں ہے؛ کم SPR فوری امریکی قلت ثابت نہیں کرتا، مگر نئے جھٹکے سے نمٹنے کی گنجائش محدود کرتا ہے۔ تجارتی ذخائر اور ملکی پیداوار اس سے الگ ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں میں Bitcoin اور Ethereum نے اپنی اہم سپورٹ سطحوں کو برقرار رکھا ہے، لیکن ڈیریویٹوز مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی اوپن انٹرسٹ اور فنڈنگ ریٹس میں کمی نے بیئرش دباؤ میں اضافے کا اشارہ دیا ہے۔ عالمی میکرو عوامل بھی کرپٹو مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR مستحکم ہے۔
نئی تاریخی بلند سطح: لندن میٹل ایکسچینج (LME) پر تانبا 14,533 ڈالر فی میٹرک ٹن کی نئی تاریخی بلند ترین سطح کو چھو گیا، جس نے جنوری کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ذخائر کا جغرافیائی تضاد: امریکہ میں تانبے کے ذخائر ریکارڈ سطح پر پہنچ چکے ہیں، جبکہ چین (SHFE) اور لندن کے گوداموں میں فوری دستیاب دھات نایاب ہو رہی ہے۔ شنگھائی میں 85 فیصد کمی: چین میں شنگھائی فیوچرز ایکسچینج کے زیرِ نگرانی ذخائر مارچ کے وسط کی بلند سطح سے گر کر صرف 63,000 ٹن رہ گئے ہیں، جو جنوری 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ امریکی ٹیرف کا اثر: متوقع امریکی تجارتی محصولات اور قیمتوں کے فرق نے عالمی تانبے کے بہاؤ کا رخ زبردستی امریکی گوداموں کی طرف موڑ دیا ہے۔ فوری رسد کا خطرہ: اگر LME سے دھات کا اخراج جاری رہا اور چین میں سپلائی بحال نہ ہوئی، تو مجموعی عالمی پیداوار کے باوجود فزیکل مارکیٹ میں شدید تنگی برقرار رہے گی۔
بٹ کوائن 79,000 ڈالر کی حد کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے جبکہ مارکیٹ میں کیپیٹل روٹیشن (capital rotation) جاری ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں