اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
"audusd is trading in cautius mood due to important scheduled important events" کے لیے 1166 نتائج۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس 11.10 فیصد افراطِ زر اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کی موجودگی کے باعث 40 بیسس پوائنٹس کی مثبت حقیقی شرحِ سود موجود ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں 50 تا 100 بیسس پوائنٹس کمی کا راستہ صاف نظر آتا ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ہیڈلائن افراط زر 11.10 فیصد پر آنے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باعث مثبت حقیقی شرح سود بحال ہو چکی ہے، جس سے آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں مزید ریٹ کٹ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
پاکستان کی معیشت 11.50% پالیسی ریٹ اور 11.10% افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ بیرونی کھاتوں کے استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت USD/PKR 276.83 پر متوازن قائم ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی آنے والی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں 11.10 فیصد کی سی پی آئی مہنگائی اور 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے تناظر میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا قوی امکان ہے۔
XAU/USD تقریباً 4,182.7 پر ہے۔ H1 پر 4,156–4,160 فوری سپورٹ کے طور پر اہم ہے۔ 4,133–4,135 کے قریب اگلی اہم سپورٹ نظر آتی ہے۔ اوپر کی جانب 4,204–4,212 ابتدائی ریزسٹینس ہے۔ اس کے بعد 4,228–4,252 کا زون اہم رکاوٹ بن سکتا ہے۔ D1 RSI تقریباً 41.11 ہے، جبکہ H4 RSI 49.34 اور H1 RSI 54.66 ہے۔ H1 مومینٹم میں بہتری ہے، لیکن D1 چارٹ ابھی واضح بُلش ریورسل کی تصدیق نہیں کرتا۔ 4,200 کے اوپر مستقل قیمت برقرار رہنا مزید ریکوری کے لیے اہم ہوگا۔ 4,156 کے نیچے کمزوری اور پھر 4,133 کے نیچے بریک ڈاؤن مزید دباؤ کی علامت ہوسکتا ہے۔
ستمبر میں سالانہ مہنگائی 10.3 فیصد رہی، جو اگست کے مقابلے میں 0.8 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ ماہانہ قیمتیں 1.3 فیصد بڑھیں؛ اگست میں اضافہ 1.2 فیصد تھا۔ شہری اور دیہی دونوں اشاریوں میں بجلی کے چارجز 15.28 فیصد بڑھے، جبکہ موٹر فیول کا اضافہ بالترتیب 10.76 اور 11.13 فیصد رہا۔ ٹماٹر اور مرغی سستے ہوئے، لیکن قومی سطح پر خوراک اور مشروبات کا مجموعی اشاریہ ماہانہ 0.19 فیصد بڑھا۔ خوراک اور توانائی کے بغیر بنیادی مہنگائی (Core Inflation) میں کمی آئی، تاہم توانائی کی بڑھتی لاگت شرح سود کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہے گی۔
EUR/USD نے 1.12700 پر 0.27% اضافہ دکھایا۔ دن کی حد 1.12700–1.13403 ہے اور DXY 101.93 پر مستحکم ہے۔ یہ مضمون تکنیکی اور بنیادی عوامل کی تفصیل پیش کرتا ہے۔
پاکستانی روپیہ انٹربینک مارکیٹ میں 277.10 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے جہاں مثبت حقیقی شرح سود بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کی معیشت 11.50 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے زمرے میں داخل ہو چکی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد اور ترسیلاتِ زر کے سہارے USD/PKR 277.10 کی سطح پر مستحکم ہے جبکہ KSE-100 انڈیکس 168,637 پوائنٹس پر موجود ہے۔
پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے مسلسل استحکام کی دلالت کر رہے ہیں۔ 11.50 فیصد کے پالیسی ریٹ اور 11.10 فیصد کے افراط زر کے ساتھ مثبت حقیقی شرح سود کے فریم ورک نے KSE-100 انڈیکس کو 169,969 کے سنگ میل پر پہنچا دیا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.98 کی سطح پر مستحکم ہے۔
یہ مضمون پرو ٹریڈرز کے لیے مخصوص ٹپس پیش کرتا ہے: کون سے کرنسی جوڑے بہتر ہیں، اہم نیوز ایونٹس کا ٹریڈنگ پلان، رسک مینجمنٹ کے بنیادی اصول اور عملی قدم بہ قدم مثالیں۔
USD/PKR 276.88 پر +0.39% کے ساتھ بڑھا، جبکہ DXY میں کمی اور مرکزی بینکوں کے پالیسی اشارے نے اس رجحان کو تقویت دی۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں