Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"decline in european stocks including ftse100 and dax30" کے لیے 1122 نتائج۔

ایشیائی حصص میں غیر معمولی تیزی: مضبوط امریکی روزگار، 96 ڈالر کا خام تیل اور شرحِ سود کے خطرات کا تقابلی جائزہ
ایشیائی حصص میں غیر معمولی تیزی: مضبوط امریکی روزگار، 96 ڈالر کا خام تیل اور شرحِ سود کے خطرات کا تقابلی جائزہ

ایشیائی انڈیکسز میں تیزی: جاپان کا Nikkei 225 تقریباً 2% اور جنوبی کوریا کا Kospi تقریباً 3% چڑھے، جبکہ جاپان کے علاوہ وسیع ایشیائی مارکیٹس میں بھی 0.9% اضافہ ہوا۔ امریکی روزگار کا دوہرا اثر: مضبوط US Jobs ڈیٹا نے عالمی نمو پر اعتماد بحال کیا، مگر ساتھ ہی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رکھنے کے خدشات بھی برقرار رکھے۔ توانائی بحران میں استقامت: مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور برینٹ تیل کے 96 ڈالر پر پہنچنے کے باوجود ایشیائی حصص میں کسی بڑے پیمانے کی فروخت (Sell-off) کا دباؤ نہیں دیکھا گیا۔ ین اور نکیئی کا باہمی ربط: ڈالر کے مقابلے جاپانی ین کی مضبوطی کے باوجود Nikkei کا بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ تیزی صرف کمزور کرنسی پر نہیں بلکہ کمپنیوں کی حقیقی طلب پر قائم ہے۔ امریکی تعطیل (Labor Day): آج امریکا میں تعطیل کے باعث وال اسٹریٹ اور کیش ٹریژری مارکیٹس بند ہیں؛ اس ریلی کی حتمی عالمی توثیق منگل کو امریکی سیشن کھلنے پر ہوگی۔

محمد اظہر سلیم ·
سونے کی عالمی قیمت $4,400 پر مستحکم، DXY میں کمی سے ریلیف، ییلڈز کا دباؤ برقرار
سونے کی عالمی قیمت $4,400 پر مستحکم، DXY میں کمی سے ریلیف، ییلڈز کا دباؤ برقرار

عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔

سید جواد ·
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی: انٹربینک ریٹ 277.62 پر
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی: انٹربینک ریٹ 277.62 پر

پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔

سید جواد ·
KSE-100 انڈیکس 174,600 کی سطح سے اوپر مستحکم، بیئرش تھیسس کی نفی
KSE-100 انڈیکس 174,600 کی سطح سے اوپر مستحکم، بیئرش تھیسس کی نفی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے اوپر برقرار رہنے میں کامیاب رہا، جس نے پچھلی بیئرش تھیسس کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم، پائیدار رجحان کے لیے وسیع تر شرکت کی ضرورت ہے۔

سید جواد ·
پاکستان میکرو ہفتہ وار آؤٹ لک: 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کے باوجود مہنگائی، تجارتی خسارہ اور تیل بڑا امتحان
پاکستان میکرو ہفتہ وار آؤٹ لک: 3 ارب ڈالر یورو بانڈ کے باوجود مہنگائی، تجارتی خسارہ اور تیل بڑا امتحان

یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
پاکستان میں مہنگائی دوبارہ 11 فیصد سے اوپر: کیا ڈس انفلیشن کا عمل کمزور پڑ رہا ہے؟
پاکستان میں مہنگائی دوبارہ 11 فیصد سے اوپر: کیا ڈس انفلیشن کا عمل کمزور پڑ رہا ہے؟

ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں