امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
"mixed end of the business week in psx" کے لیے 1166 نتائج۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ بیان اور ایرانی قیادت کے سخت ردعمل نے سرمایہ کاروں کو ایک بار پھر محتاط کر دیا ہے۔
آج جاری ہونیوالی US ADP Employment Report نے امریکی Labor Market کی رفتار کے حوالے سے سرمایہ کاروں اور عالمی مارکیٹس کی توجہ حاصل کی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی اہم نفسیاتی اور تکنیکی سطح سے نیچے ایک فیصلہ کن بریک ڈاؤن دکھایا۔ مارکیٹ کی وسعت میں کمی اور بڑھتے ہوئے ٹرن اوور نے اس گراوٹ کی تصدیق کی، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور ایک نئے منفی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
آج ایشیائی سیشنز میں بھی عالمی بانڈ مارکیٹس میں شدید فروخت کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری بانڈز کی Yields اور قرض لینے کے اخراجات کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچ گئے ہیں۔
جنگ صرف میدانِ جنگ کو نہیں ہلاتی بلکہ اس کے اثرات دنیا کی معیشت، تیل کی قیمتوں اور فنانشل مارکیٹس تک پہنچتے ہیں۔ US Iran War نے بھی عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) ستمبر کے آغاز میں مضبوط دکھائی دے رہا ہے، جسے فیڈ کی ہاکش توقعات، بلند US Treasury Yields اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے سپورٹ مل رہی ہے۔ 10 سالہ Treasury Yield تقریباً 4.78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ بلند تیل کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں۔ تکنیکی طور پر 99.75 سے 100.00 اہم Resistance Zone ہے، جبکہ 99.00 اور 98.70 سے 98.75 اہم Support Levels ہیں۔ اب ISM Manufacturing PMI، JOLTS اور Nonfarm Payrolls جیسے امریکی اعداد و شمار DXY کی اگلی سمت کے لیے اہم ہوں گے۔ مضبوط ڈیٹا ڈالر کو مزید سپورٹ دے سکتا ہے، جبکہ کمزور ڈیٹا DXY پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
Global Bond Yields میں مسلسل اضافہ، Inflation کے دباؤ اور مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
آج KSE-100 انڈیکس نے 177,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے بندش دی، جو مارکیٹ میں محتاط رویے اور ایک واضح رجحان کی عدم موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور مارکیٹ وسعت اور ٹرن اوور میں کمی نے اس منفی جھکاؤ کو مزید تقویت بخشی۔
لندن اسٹاک ایکسچینج نے کرپٹو ایکسچینج کریکن کی بنیادی کمپنی پے ورڈ کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جس کا مقصد برطانیہ کے بڑے اور اہم Stocks کو بلاک چین پر لانا ہے۔
موجودہ صورتحال میں USDJPY دنیا بھر کے ٹریڈرز کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ ِ ین کے مقابلے میں امریکی ڈالر م160.00 کے اہم نفسیاتی ہندسے کے قریب اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اگست میں COMEX Gold میں تقریباً 9.4 فیصد اضافہ ہوا جو بلاشبہ عمدہ ماہانہ کارکردگی ہے، لیکن آخری سیشن میں spot price دباؤ کا شکار رہی۔ September Fed rate hike کی market-implied probability تقریباً 64 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ 10-year Treasury yield بڑھ کر 4.764 فیصد پر ریکارڈ ہوئی۔ مشرق وسطیٰ میں U.S.-Iran کشیدگی اور Brent crude کے $90 سے اوپر جانے کے باوجود سونے کی قیمتوں کا نہ بڑھنا واضح کرتا ہے کہ فی الوقت rates concerns نے safe-haven demand کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ستمبر کے دوران سونے (Gold) کی اگلی سمت کا فیصلہ محض geopolitical headlines پر نہیں بلکہ U.S. payrolls، inflation data، Treasury yields اور Fed expectations کا باہمی تعلق پر منحضر ہو گا۔
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی Meta نے اپنے پورے ورثے کو ایک AI Native ماحول میں ڈھالنے کے لیے ایک انتہائی طویل اور جارحانہ منصوبہ تیار کیا تھا۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں