کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سکیورٹی کے مسائل ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران Liquid Network exploit نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیاہے
"decision on imf staff level agreement likely today" کے لیے 1137 نتائج۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سکیورٹی کے مسائل ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہے ہیں۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران Liquid Network exploit نے پوری مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیاہے
چین کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً 54 ارب ڈالر، یعنی لگ بھگ 360 ارب یوآن، کے بڑے Capital Injection نے اسی لیے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,400 کی نفسیاتی سطح پر استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے اسے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کے ساتھ 'range-bound consolidation' کا رجحان غالب ہے۔
پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں معمولی ریکوری کی کوشش کی ہے، لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکامی اور ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ کے باعث یہ رجحان کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی P2P مارکیٹ میں USDT/PKR میں استحکام برقرار ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے اوپر برقرار رہنے میں کامیاب رہا، جس نے پچھلی بیئرش تھیسس کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ یہ مارکیٹ میں استحکام کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم، پائیدار رجحان کے لیے وسیع تر شرکت کی ضرورت ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی اہم سپورٹ سطح کے قریب مستحکم ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یورو بانڈ فنانسنگ: پاکستان نے دو حصوں (Dual-Tranche) پر مشتمل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے، جن کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی زبردست مانگ سامنے آئی۔ مہنگائی کی بحالی: اگست میں قومی سالانہ CPI بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گئی، جبکہ شہری کور افراطِ زر 8.8 فیصد اور دیہی کور 8.5 فیصد پر برقرار رہی۔ تجارتی خسارے کا پھیلاؤ: جولائی اور اگست میں تجارتی خسارہ 18.1 فیصد بڑھ کر 7.12 ارب ڈالر تک جا پہنچا، کیونکہ درآمدات کی رفتار برآمدات سے تقریباً دو گنا تیز رہی۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر: 28 اگست تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.12 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی سیال ذخائر 22.53 ارب ڈالر رہے، جبکہ انٹربینک میں USD/PKR ریٹ 277.41 پر مستحکم رہا۔ عالمی تیل کا خطرہ: برینٹ خام تیل ہفتے کے اختتام پر 92.68 ڈالر پر بند ہوا؛ 5 ستمبر سے ڈیزل کی قیمت میں 3.74 روپے کا اضافہ معیشت میں پیداواری لاگت کے نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔
ہیڈ لائن مہنگائی: قومی سالانہ CPI جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ ماہانہ رفتار 1.2 فیصد رہی۔ بیس ایفیکٹ اور اصل دباؤ: اگست 2025 کی کم بنیاد نے سالانہ شرح کو اوپر دھکیلنے میں کردار ضرور ادا کیا، لیکن ماہانہ 1.2 فیصد اور WPI میں 2.0 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا تازہ دباؤ موجود ہے۔ دیہی آبادی پر زیادہ بوجھ: دیہی مہنگائی 12.2 فیصد رہی جبکہ شہری مہنگائی 10.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ دیہی کنزمپشن باسکٹ میں اشیائے خورونوش کا زیادہ وزن ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی: 11.5 فیصد پالیسی ریٹ اور 11.1 فیصد ہیڈ لائن CPI کے درمیان حقیقی شرحِ سود کا فرق سکڑ کر محض 0.4 فیصد (40 bps) رہ گیا ہے، جس نے 14 ستمبر کے MPC اجلاس میں شرحِ سود میں فوری کٹوتی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں Bitcoin اور Ethereum نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں معمولی ریکوری کی کوشش کی، لیکن اہم مزاحمتی سطحوں کو توڑنے میں ناکامی کے باعث یہ رجحان کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ڈیریویٹوز مارکیٹ میں محتاط پوزیشننگ اور میکرو اکنامک دباؤ برقرار ہے۔
عالمی سونے کی قیمت (XAU/USD) $4,420 کی نفسیاتی سپورٹ کے قریب استحکام دکھا رہی ہے، جبکہ DXY میں معمولی کمی نے قلیل مدتی ریلیف فراہم کی ہے۔ تاہم، امریکی ٹریژری ییلڈز میں اضافہ اور فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے امکانات سونے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے 'bearish trend continuation' کا رجحان غالب ہے۔
بنیادی سفارش: نارجس بینک انویسٹمنٹ مینجمنٹ (NBIM) نے اپنے بانڈ اشاریے میں سرکاری بانڈز کا وزن 70 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد کرنے کی باضابطہ تجویز دی ہے۔ امریکی ٹریژریز پر اثر: نئی ساخت نافذ ہونے کی صورت میں امریکی سرکاری قرض میں فنڈ کی ہولڈنگز میں اندازاً 80 ارب ڈالر کی کمی بن سکتی ہے۔ وزن میں ردوبدل: بینچ مارک میں امریکی سرکاری قرض کا حصہ 34.1 فیصد سے کم ہو کر 21.9 فیصد رہ جائے گا، تاہم مجموعی امریکی ڈالر اثاثوں کا وزن 52.5 فیصد کے قریب مستحکم رہے گا۔ نفاذ کا ٹائم فریم: یہ فوری فروخت نہیں ہے؛ قانون سازوں کی منظوری کی صورت میں بھی اس پالیسی پر عملی عمل درآمد 2027 کے وسط سے پہلے متوقع نہیں۔ حکمتِ عملی کا اصل رخ: یہ پیش رفت امریکی ڈالر سے انخلا نہیں، بلکہ امریکی سرکاری بانڈز سے سرمایہ نکال کر نسبتاً زیادہ منافع بخش مارگیج بیکڈ سیکیورٹیز اور دیگر امریکی کارپوریٹ قرضوں میں منتقل کرنے کی اندرونی ری بیلنسنگ ہے۔
اردو مارکیٹس اسسٹنٹ
لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ
تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں