Chart Pro 👤 لاگ ان (Login)

تلاش

"gold trades in narrow range as investors are cautius" کے لیے 1142 نتائج۔

KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ توڑ کر بیئرش بریک ڈاؤن کا شکار
KSE-100 انڈیکس 174,600 کی اہم سپورٹ توڑ کر بیئرش بریک ڈاؤن کا شکار

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج KSE-100 انڈیکس نے 174,600 کی اہم سپورٹ سطح سے نیچے بندش دی ہے، جو پچھلی کمزور استحکام کی تھیسس کو غلط ثابت کرتا ہے۔ مارکیٹ میں وسیع البنیاد فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس سے مزید نیچے کی جانب رجحان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

سید جواد ·
سولانا بلاک چین میں بڑی ٹرانزیکشنز کا انقلاب اور کرپٹو انڈسٹری کا ردعمل۔
سولانا بلاک چین میں بڑی ٹرانزیکشنز کا انقلاب اور کرپٹو انڈسٹری کا ردعمل۔

سولانا نیٹ ورک نے اپنے ٹرانزیکشن سائز کو تین گنا سے زیادہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے Solana Transaction v1 upgrade کہا جاتا ہے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد ڈویلپرز کو پیچیدہ ٹریڈز اور بڑے سمارٹ کانٹریکٹس چلانے کے لیے زیادہ جگہ ملے گی۔

Robina Adeel ·
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گراوٹ جاری: انٹربینک ریٹ 277.66 پر
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گراوٹ جاری: انٹربینک ریٹ 277.66 پر

پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو رہا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں 277.66 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی دباؤ اور مقامی طلب اس گراوٹ کی اہم وجوہات ہیں، جبکہ عالمی ڈالر کی کمزوری بھی PKR کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔

سید جواد ·
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی: انٹربینک ریٹ 277.62 پر
ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی: انٹربینک ریٹ 277.62 پر

پاکستانی روپے (PKR) انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی گراوٹ جاری رکھے ہوئے ہے، آج 277.62 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی ڈالر کی مضبوطی اس رجحان کے اہم محرکات ہیں۔

سید جواد ·
ڈالر ریٹ آج: پاکستانی روپے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید گراوٹ، 277.60 پر ٹریڈ
ڈالر ریٹ آج: پاکستانی روپے میں انٹربینک مارکیٹ میں مزید گراوٹ، 277.60 پر ٹریڈ

پاکستانی روپے (PKR) امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں انٹربینک مارکیٹ میں اپنی قدر میں مزید کمی کا شکار ہے، جو 277.60 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ درآمدی ادائیگیوں کا دباؤ اور عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اس گراوٹ کی بنیادی وجوہات ہیں۔

سید جواد ·
عالمی غذائی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، FAO نے رسد کے خطرات سے خبردار کر دیا
عالمی غذائی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر، FAO نے رسد کے خطرات سے خبردار کر دیا

FAO کا عالمی غذائی قیمت اشاریہ اگست میں 1.9 فیصد بڑھ کر 133.3 پوائنٹس ہوگیا، جو نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ تمام پانچ بڑی غذائی اقسام کی قیمتیں بڑھیں، جبکہ چینی کا اشاریہ ایک ماہ میں 11.9 فیصد بڑھا۔ عالمی اناج قیمتیں 2.2 فیصد بڑھیں اور FAO نے 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا تخمینہ بھی کم کر دیا ہے۔ موسمی خطرات، بحیرہ اسود میں رسدی رکاوٹیں اور ایران سے جڑے تنازع کے باعث زرعی خام مال اور کھاد کی ترسیل پر دباؤ اہم محرکات میں شامل ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ یہ اضافہ چند ماہ کی رسدی بے ترتیبی تک محدود رہتا ہے یا عالمی افراطِ زر میں دوبارہ پائیدار غذائی دباؤ پیدا کرتا ہے۔

محمد اظہر سلیم ·
🤖

اردو مارکیٹس اسسٹنٹ

لائیو مارکیٹ ڈیٹا کے ساتھ

تعلیمی معلومات — مالی مشورہ نہیں